Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 9

  1. فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ﴿9﴾

    1. فَاَمَّا الْيَتِيْمَپس جو یتیم
    2. فَلَا تَقْهَرْتو قہر نہ کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جو یتیم ہے اس کو مت دبائیو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انعامات کا حق: قریش کے زور آوروں کو تنبیہ: یہ ان انعامات کا، جو اوپر مذکور ہوئے، حق بیان ہوا ہے اور انداز بیان ایسا ہے جس میں ان لوگوں پر نہایت لطیف تعریض بھی ہے جن کا حال پچھلی سورتوں میں بیان ہوا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو اس کا انعام سمجھنے اور اس کے شکرگزار ہونے کی بجائے وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو گئے کہ یہ جو کچھ ان کو ملا ہے یہ اسی کے حق دار ہیں۔ فرمایا کہ تم یہ روش نہ اختیار کرنا بلکہ تمہاری یتیمی کی حالت میں تمہارے رب نے جس طرح تم کو پناہ دی اسی طرح تم یتیموں کو پناہ دینا، ان پر شفقت اور کرم کی نظر رکھنا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا۔ آیت ’وَتَأْکُلُوۡنَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمًّا‘ (الفجر ۸۹: ۱۹) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں؂۱ کہ جاہلی معاشرہ میں زور آور عصبات اور اقربا کمزور وارثوں اور یتیموں کے حقوق دبا بیٹھتے اور ساری وراثت تنہا سمیٹ لیتے۔ ’فَلَا تَقْہَرْ‘ کے الفاظ میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ ’فَلَا تَقْہَرْ‘ کے معنی یہ ہیں کہ یتیم کو کمزور پا کر اس کو دبانے اور اس کے حقوق غصب کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ آنحضرت ﷺ کو یہ تنبیہ ظاہر ہے کہ اس بنا پر نہیں کی گئی کہ آپ سے اس قسم کے کسی جرم کے صدور کا امکان تھا بلکہ یہ بالواسطہ قریش کے ان زور آوروں کو تنبیہ ہے جن کو پچھلی سورتوں میں ان کے اسی قسم کے غصب حقوق پر سرزنش فرمائی گئی ہے لیکن وہ اپنے رویے کی اصلاح کے بجائے رسول کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اس سورہ میں ان کو نظر انداز کر کے رسول کو ہدایت فرما دی کہ دوسرے جو رویہ بھی اختیار کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تمہیں بہرحال یتیموں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہشتم، صفحہ: ۳۵۹۔