Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 8

  1. وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ﴿8﴾

    1. وَاور
    2. وَجَدَكَآپ کو پایا
    3. عَآئِلًامفلس
    4. فَاَغْنٰىتو غنی کردیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور محتاج پایا تو غنی نہیں کیا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حقیقی غنا کا سرچشمہ ایمان اور معرفت الٰہی ہے: ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں محتاج پایا تو غنی کر دیا۔ غنا اور فقر کا جتنا تعلق مادی اسباب و وسائل سے ہے اس سے زیادہ قلب کے احوال سے ہے۔ آدمی کا سینہ ایمان سے خالی ہو تو وہ محتاج ہے اگرچہ اس کے پاس قارون کا خزانہ ہو اور اگر ایمان سے اس کا سینہ معمور ہے تو وہ غنی ہے اگرچہ وہ حضرت یحییٰ کی طرح کمل کی پوشاک پہنتا اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارہ کرتا ہو۔ یہی حکمت یوں سمجھائی گئی ہے کہ ’الغنی غنی القلب‘ (حقیقی غنا دل کا غنا ہے) یہ حقیقی غنا ایمان، اللہ کی معرفت اور اس کی کتاب کے نور سے پیدا ہوتا ہے جس کو یہ دولت حاصل نہیں ہوئی وہ دنیا کی حرص سے کبھی پاک نہیں ہو سکتا اور جو حریص ہے اس کا کاسۂ گدائی کبھی نہیں بھرتا۔ کاسۂ چشم حریصاں پُر نہ شد یہ دنیا عالم اسباب ہے اس وجہ سے اس میں انسان اسباب کا محتاج ہے۔ اگر سید عالم صلی اللہ علی وسلم کو سیدہ خدیجہ کے مال سے کچھ فائدہ پہنچا تو یہ حضرت خدیجہ اور ان کے مال کی ایسی خوش بختی ہے جو اس زمین پر کسی مال اور کسی صاحب مال کو مشکل ہی سے حاصل ہوئی ہو گی لیکن وہ غنا جس کا یہاں ذکر ہے مجرد مال سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہیں حاصل ہوتا بلکہ یہ اصلاً اس ہدایت کا ثمرہ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے اور جس کی صحیح تعبیر وہ ’’شرح صدر‘‘ ہے جس کی تفصیل بعد کی سورہ۔۔۔ اَلَم نَشْرَحْ۔۔۔ میں، جو اس کی توام ہے، آئے گی۔ جن لوگوں نے اس غنا کو تمام تر حضرت خدیجہ کے مال کا نتیجہ قرار دیا ہے ان کی نظر صرف ظاہر پر ٹک گئی حالانکہ اصل حقیقت اس سے ماورا ہے جو دیکھی نہیں جا سکتی بلکہ صرف سمجھی جا سکتی ہے۔ یہاں اشارات پر قناعت فرمائیے۔ آگے آخری آیت کے تحت بھی اور سورہ ’اَلَم نَشْرَحْ‘ میں بھی اس کے بعض مخفی پہلو ان شاء اللہ زیربحث آئیں گے۔