تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 3
وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ﴿3﴾
- وَاور
- هٰذَااس
- الْبَلَدِشہر
- الْاَمِيْنِامن والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ پرامن سرزمین
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بلد امین سے مکہ مراد ہے: ’بلد امین‘ سے ظاہر ہے کہ مکہ مراد ہے لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاف الفاظ میں مکہ کیوں نہیں کہا، صفت کے ساتھ کیوں اس کا ذکر کیا۔ اس سوال کا جواب ہم آگے ان شاء اللہ جب مقسم علیہ سے ان قسموں کے تعلق کی وضاحت کریں گے، دیں گے۔
بلد امین کی شہادت جزا پر
بلد امین سے مراد ظاہر ہے کہ مکہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک مامون گھر بنایا ہے، چنانچہ فرمایا ہے:
’وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا‘ (آل عمران ۳: ۹۷)
(اور جو اس میں داخل ہوا وہ مامون ہوا)۔
جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی کافر قوم سے ہجرت کر کے اس علاقہ میں آئے ہیں یہ بالکل غیر آباد و غیر مامون تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے لیے رزق و امن کی دعا فرمائی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی جس کی بدولت اس علاقہ میں رزق کی بھی فراوانی ہوئی اور یہ امن سے بھی معمور ہوا۔ اور یہ دونوں نعمتیں لوگوں کو حضرت ابراہیم کے بنائے ہوئے گھر کی برکت سے ملیں۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۵ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ‘(قریش ۱۰۶: ۳-۴)
(پس چاہیے کہ لوگ اس گھر کے خداوند کی بندگی کریں جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور خوف سے نچنت کیا)۔
حضرت ابراہیم پر یہ انعام ان کی ان جاں بازیوں اور قربانیوں کے صلے میں ہوا جو انھوں نے کلمۂ توحید کی سربلندی کی راہ میں پیش کیں۔ پھر جب انھوں نے اس سے بھی بڑے امتحان یعنی بیٹے کی قربانی کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کر لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بھی بڑے انعام یعنی قوموں کی امامت کے منصب سے نوازا۔ اس وقت حضرت ابراہیمؑ نے سوال کیا کہ کیا اس امامت کے انعام میں میری ذریت بھی شامل ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ میرا یہ وعدہ ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے۔ یعنی تم کو جو کچھ ملا ہے وہ تو انعام ہے تمہاری جاں بازیوں اور وفاداریوں کا، اس وجہ سے تمہاری ذریت میں سے وہی اس انعام میں شریک ہوں گے جو تمہارے طریقہ کے پیرو ہوں گے۔ رہے وہ جو اس راہ سے منحرف ہو جائیں گے تو وہ اپنے اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو اس طرح کے لوگوں کے لیے خدا کے قانون مکافات کی رو سے مقدر ہے۔ قرآن میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے:
وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرٰھِیۡمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ.(البقرہ ۲: ۱۲۴)
’’اور یاد کرو جب کہ ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے جانچا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں تو فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں تو اس نے سوال کیا کہ کیا میری ذریت میں سے بھی؟ ارشاد ہوا کہ میرا یہ عہد ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔‘‘
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ مقام نہ صرف اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات کا ایک مظہر ہے بلکہ اسی سرزمین سے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی عام منادی کرائی ہے کہ کون لوگ اس کے فضل و انعام کے حق دار ہوں گے اور کون اس کے قہر و غضب کے سزاوار ٹھہریں گے۔
ناموں کی ترتیب سے متعلق ایک سوال کا جواب: ایک سوال ان ناموں کی ترتیب سے متعلق بھی ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ ان کی تقدیم و تاخیر میں کون سا اصول ملحوظ ہے۔ استاذ امام اس کا یہ جواب دیتے ہیں:
’’اس میں ترتیب جمع مثل بالمثل کی ملحوظ ہے۔ پہلے آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا اس لیے کہ تقدم زمانی کے لحاظ سے اسی کا ذکر ہونا تھا۔ پھر مسیح علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر ہوا اور یہ اس مماثلت کے سبب سے ہوا جو حضرت آدم اور حضرت مسیح کے درمیان ہے اور جس کا ذکر قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں یوں فرمایا ہے:
’اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ‘ (آل عمران ۳: ۵۹)
(عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے)‘‘‘‘
’’اس کے بعد ان دو مقاموں کا ذکر آتا ہے جن کا تعلق حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ سے ہے اور ان دونوں رسولوں میں جو مماثلت ہے وہ بھی قرآن سے واضح ہے۔ چنانچہ قریش کو مخاطب کر کے فرمایا ہے:
اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا۵ شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا.(المزمل ۷۳: ۱۵)
’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا۔‘‘
’’تورات کی کتاب استثناء میں آنحضرت ﷺ کی جو بشارت وارد ہے اس میں بھی یہ مماثلت موجود ہے:
’اور میں ان کے لیے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس کو حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب انہی سے لوں گا۔‘‘‘