Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 4

  1. لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘﴿4﴾

    1. لَقَدْ خَلَقْنَاالبتہ ہم نے پیدا کیا
    2. الْاِنْسَانَانسان
    3. فِيْٓ اَحْسَنِبہترین میں
    4. تَقْوِيْمٍسانچہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت بنایا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل دعویٰ جس کو ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں: یہ وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے لیکن ہماری سنت یہ ہے کہ جو لوگ اس انعام کی قدر کرتے اور ان کی فطرت کے اندر جو ہدایت ہم نے ودیعت کی ہے اس کو پروان چڑھاتے اور پھر نبیوں کی دعوت قبول کر کے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ان کو تو ہم دائمی اجر سے نوازتے ہیں، لیکن جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے وہ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، اور ان کو ہم اسی گڑھے میں پھینک دیتے ہیں جس سے بچانے ہی کے لیے ہم نے ان پر یہ انعام کیا تھا۔ ’لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ‘۔ ’تَقْوِیْمٌ‘ کا لغوی مفہوم تو کسی چیز کو سیدھا کرنا، مثلاً کہیں گے: ’قوّمت الرمح فاستقام‘ (میں نے نیزے کو سیدھا کیا تو وہ سیدھا ہوگیا) پھر اس مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی شے کو کسی خاص مقصد کے لیے موزوں اور مناسب بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ انسان کو اللہ نے نہایت اعلیٰ مقصد کے لیے بہترین صلاحیتوں سے آراستہ کیا ہے: انسان کے متعلق قرآن میں باربار یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ اس کو خدا نے عبث نہیں بلکہ ایک عظیم غایت (بِالْحَقِّ) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ غایت یہ ہے کہ اس دنیا کے دارالامتحان میں وہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کی باطل ترغیبات و ترہیبات سے بچتا ہوا زندگی کی اس صراط مستقیم پر گامزن رہے جو اس کے رب نے اس کے لیے کھولی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ابدی بادشاہی بخشے گا اور اگر وہ شیطان کی ترغیب سے بہک کر یا اس کی ترہیب سے ڈر کر اس صراط مستقیم کو چھوڑ بیٹھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ہلاکت کی اسی وادی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دے گا جو وہ اپنے لیے پسند کرے گا۔ انسان کو اس غایت کے اعتبار سے، اللہ تعالیٰ نے نہایت بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔ اس کی ظاہری ساخت بھی گواہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کی باطنی صلاحیتیں بھی اتنی اعلیٰ ہیں کہ اس زمین کی تمام مخلوقات میں سے صرف وہی ان کا اہل بن سکا ہے۔ پچھلی سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، یہ بات بیان ہوئی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خیر اور شر میں امتیاز بخشا ہے۔ یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ بالطبع وہ خیر کو پسند کرنے والا اور شر کو ناپسند کرنے والا ہے۔ نیز یہ حقیقت بھی جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ وہ ذی عقل اور ذی ارادہ ہستی ہے، دوسری مخلوقات کی طرح عقل اور ارادہ سے محروم نہیں ہے۔ یہ ساری باتیں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے اس کو پیدا کیا ہے اس کے لیے تمام ضروری صلاحیتوں سے اس کو آراستہ بھی کیا ہے۔