Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 5

  1. ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ﴿5﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. رَدَدْنٰهُہم نے اسے لوٹادیا
    3. اَسْفَلَسب سے نیچے
    4. سٰفِلِيْنَنیچوں والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ہم نے اس کو ادنیٰ درجہ میں ڈال دیا جب کہ وہ خود گرنے والا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وہ سنت جس کے تحت اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے: ’ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ‘۔ یہ اس سنت کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ انسان چونکہ ذی ارادہ ہستی ہے اس وجہ سے اس احسن تقویم کے شرف سے بہرہ یاب رہنا یا اس سے محروم ہو جانا اس کے اپنے رویہ پر منحصر ہے۔ اگر وہ اس کی قدر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرتا ہے اور اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتا بلکہ نیچے ہی کی طرف جھکا رہتا ہے تو اس کو وہ نیچے ہی کی طرف لوٹا دیتا ہے اور بالآخر تمام سرفرازیوں سے محروم ہو کر، لڑکھڑاتا ہوا قعر جہنم میں گر پڑتا ہے۔ ’اَسْفَلَ‘ میرے نزدیک ظرف اور ’سٰفِلِیْنَ‘ ’رَدَدْنٰہُ‘ کی ضمیر مفعول سے حال ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیچے کی طرف اس وجہ سے پھینکتا ہے کہ وہ نیچے کی طرف جانے ہی کی رغبت کرتا ہے، بلندیوں پر چڑھنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ کھٹک پیدا ہو کہ ’سٰفِلِیْنَ‘ جمع ہے تو وہ ضمیر واحد سے کس طرح حال پر سکتا ہے؟ لیکن یہ شبہ صحیح نہیں ہے۔ ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن اس کا مرجع ’الْاِنْسَانَ‘ ہے جو معناً جمع ہے چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ اس کے لیے ضمیریں واحد بھی آئی ہیں اور جمع بھی۔