تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 7
فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ﴿7﴾
- فَمَاپس کیوں
- يُكَذِّبُكَتو جھٹلائے
- بَعْدُاس کے بعد
- بِالدِّيْنِدین (روزِ جزا وسزا)
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اب کیا ہے جس سے تم جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ‘ اس آیت کی تاویل مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے:
’’اس آیت کی تاویل میں دو قول ہیں:
’فَمَا یُکَذِّبُکَ‘ الآیۃ کی تاویل:
ایک یہ کہ پس اے انسان!ان واضح شہادتوں کے بعد کیا چیز ہے جو جزا کے بارے میں تیری تکذیب کرتی ہے۔ یہ تاویل مجاہد نے اختیار کی ہے جب ان سے کہا گیا کہ اس میں تو مخاطب آنحضرت ہیں تو انھوں نے فرمایا: معاذ اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس میں مخاطب انسان ہے۔ زمخشری نے یہی تاویل اختیار کی ہے لیکن وہ ’یُکَذِّبُ‘ میں ’تکذیب‘ کے معنی ’حمل علی التکذیب‘ یعنی تکذیب پر ابھارنے کے لیے لیتے ہیں۔ اگر یہ معنی ثابت ہو جائیں تو یہ تاویل نہایت واضح ہے لیکن اس کی تائید میں انھوں نے کوئی دلیل نہیں دی ہے۔‘‘
’دوسری تاویل یہ ہے کہ پس اے پیغمبر! اس کے بعد کیا چیز ہے جو جزا کے بارے میں تمہاری تکذیب کرتی ہے! فراء نے یہی تاویل اختیار کی ہے۔ اس پہلو سے تو یہ تاویل صحیح ہے کہ اس میں الفاظ کے مشہور معنی سے کوئی انحراف نہیں ہے لیکن سیاق کلام اور موقع استفہام کو سامنے رکھ کر غور کیجیے تو یہ تاویل صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اول تو دو دو استفہاموں کے ساتھ آنحضرت صلعم کو یہاں مخاطب کرنے کا کوئی پہلو سمجھ میں نہیں آتا، دوسرے ’فَمَا یُکَذِّبُ‘ کا زور اور لفظ ’بَعْدُ‘ کی تاکید تو یہ تاویل لینے کی صورت میں بالکل ہی مخفی رہ جاتی ہے۔ سیاق اور حسن نظم سے اقرب تاویل وہی معلوم ہوتی ہے جو مجاہد نے اختیار کی ہے۔ اس میں لفظ اپنے اصل مفہوم پر باقی بھی رہتا ہے اور اس کے ان دونوں معنوں کے لحاظ سے جو اوپر بیان ہوئے یہاں دو تاویلیں نہایت محکم اور خوبصورت بن جاتی ہیں۔‘‘
’’ایک یہ کہ اے انسان! ان شہادتوں کے بعد اب کون سی شہادت اور دلیل ہے جو وقوع جزا کے بارے میں تیرے عقیدے کی تکذیب کرتی ہے۔ اس صورت میں مخاطب انسان ہو گا اور جو لوگ جزا پر یقین رکھنے والے ہیں ان کو اس کلام سے تقویت اور تائید حاصل ہو گی اور جو لوگ جزا کے بارے میں مذبذب ہوں گے ان کو اس پر غور کرنے کی تحریک ہوگی۔‘‘
’’پھر لفظ ’ما‘ کے حسن استعمال پر غور کیجیے۔ اس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ انسان نے انکار کی راہ ہمیشہ تقلید اور ضد کی بنا پر اختیار کی ہے۔ اس راہ میں دلائل نے کبھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ دلائل اور شہادتوں کی اس پوری کائنات میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو جزا کے انکار کے حق میں ہو۔ اس وجہ سے انسانوں کو مخاطب کر کے یہ دعوت دی کہ وہ تقلید سے ہٹ کر دلائل پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا یہاں کوئی ایک چیز بھی ایسی ہے جو جزا کے عقیدے کو غلط ثابت کر رہی ہو۔‘‘
’’دوسری تاویل یہ کہ واقعات اور دلائل کی ان شہادتوں کے بعد آخر وہ اوہام اور آرزوئیں کیا ہیں جو جزا کے بارے میں انسان کو فریب میں مبتلا کر رہی ہیں۔‘‘
’’اس صورت میں روئے سخن منکرین کی طرف ہو گا۔ قرآن میں اس قسم کے خطاب کی نظیریں موجود ہیں، مثلاً:
یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ.(الانفطار ۸۲: ۶)
اے انسان! تجھے تیرے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔‘‘
ان دونوں استفہاموں کا مدعا: ان دونوں استفہاموں کا مدعا مولاناؒ یوں واضح فرماتے ہیں:
’’ اب دونوں استفہاموں کے مدعا پر غور کیجیے:
پہلے اسفہام کا مدعا دونوں تاویلوں کی صورت میں یہ ہو گا کہ مجازات کے اس قدر دلائل سامنے آ جانے کے بعد انسان کو چاہیے کہ اس کا اقرار کرے اور ان شبہات سے اپنے کو بچائے جو لوگوں کی طرف سے یا خود اس کے اپنے نفس کی طرف سے اس کے دل میں پیدا ہوں۔‘‘