Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 8

  1. اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ع﴿8﴾

    1. اَلَيْسَکیا نہیں
    2. اللّٰهُاللہ
    3. بِاَحْكَمِسب سے بڑا حاکم
    4. الْحٰكِمِيْنَتمام حاکم
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کی تاویل مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے: ’’دوسرے استفہام ’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ‘ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ مجازات کا اقرار کریں اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ گویا پوری بات یوں فرمائی کہ کیا اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے؟ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ انسانوں کو یونہی چھوڑ دے گا، ان کے اچھوں اور بروں میں کوئی امتیاز نہ کرے گا۔ ’اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶) (کیا ہم فرماں برداروں کو نافرمانوں کی طرح کر دیں گے، تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے ہو!!)‘‘ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس سورہ میں انسان کے ’احسن تقویم‘ پر پیدا کیے جانے کا جو ذکر ہے اس کا خاص پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے اور اس کے اندر عدل سے محبت اور ظلم سے کراہت ودیعت فرمائی ہے۔ اس چیز کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ کے اندر، جو انسان کا خالق ہے، عدل اور خیر سے یہ محبت اور ظلم و شر سے کراہت بدرجۂ کمال موجود ہے۔ پھر یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ اس کی یہ صفت اس پر واجب کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں تمام خلق کا انصاف کرے۔ جنھوں نے نیکی کمائی ہو ان کو اچھا صلہ دے اور جنھوں نے بدی کمائی ہو ان کو ان کی بدی کے مطابق سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ’اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ‘ نہیں ہے حالانکہ وہ بالبداہت ’اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ‘ ہے۔ اس کی اس صفت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔