Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 1

  1. اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ﴿1﴾

    1. اِقْرَاْپڑھئیے
    2. بِاسْمِنام سے
    3. رَبِّكَاپنے رب کے
    4. الَّذِيْ خَلَقَجس نے پیدا کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پڑھ اپنے اس خداوند کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اقْرَا‘ بطریق دعوت سنانے کے معنی میں: لفظ ’اقْرَا‘ (پڑھو) صرف اسی مفہوم میں نہیں آتا جس مفہوم میں ایک استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے: پڑھو!، بلکہ یہ ’اقْرَا عَلی الناس‘ یا ’اُتل علی الناس‘ یعنی دوسروں کو بطریق دعوت سنانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ان کفار کو مخاطب کر کے جو قرآن کے سنانے میں مزاحم ہوتے تھے، فرمایا ہے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَأَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ (الاعراف ۷: ۲۰۴) ’’جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے: وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالۡآخِرَۃِ حِجَابًاً مَّسْتُوۡرًا (بنی اسرائیل ۱۷: ۴۵) ’’اور جب تم لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ کھڑا کر دیتے ہیں۔‘‘ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ ایک نہایت اہم تنبیہ: ’بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘۔ یعنی اس قرآن کو اپنے اس خداوند کے نام سے پڑھ کر سناؤ جو سارے جہان کا خالق ہے۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اس کو اپنے خداوند کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پیش کرو تاکہ لوگ یہ جانیں کہ جو کلام ان کو سنایا جا رہا ہے وہ براہ راست رب دوجہان کا کلام ہے۔ نہ یہ داعی کا کلام ہے، نہ کسی اور شخص کا اور نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ رد کر دی تو وہ دور ہو جائے۔ بلکہ یہ اس خالق و مالک کا کلام ہے جس کو حق ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو حکم دے اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کی تعمیل کریں، اس کو کوئی معمولی چیز سمجھ کر ٹالنے، مذاق اڑانے یا اس کی مخالفت کرنے کی جسارت نہ کریں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن مجید براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس سے پہلے کسی کتاب کو یہ شرف حاصل نہیں کہ وہ کُل کی کُل اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ الفاظ پر مشتمل ہو۔ اس وجہ سے پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ اس کو اپنے خداوند کے نام سے پیش کرو تاکہ اس کی اصلی عظمت لوگوں پر واضح ہو اور وہ اس کی مخالفت کر کے اپنی شامت نہ بلائیں۔ قدیم صحیفوں میں حضور سے متعلق جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں بھی یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ ’آپ جو کچھ کہیں گے خدا کے نام سے کہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے انتقام لے گا جو خدا کے نام پر کہی ہوئی اس کی باتوں کو رد کریں گے۔‘ گویا ان الفاظ سے قرآن کی اصلی عظمت بھی واضح کر دی گئی ہے اور قریش کو ڈرا بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ اس کی مخالفت کرنی چاہتے ہیں تو اپنے اس فعل کے انجام کو دور تک سوچ لیں۔