Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 97. Al-Qadr · Ayah 1

  1. اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ﴿1﴾

    1. اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُبیشک ہم نے یہ اتارا
    2. فِيْمیں
    3. لَيْلَةِ الْقَدْرِلیلۃ القدر (عزت والی رات)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے تحت ہوا ہے: سابق سورہ کی آیات ۳-۵ میں اس عظیم احسان کا ذکر ہو چکا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی تعلیم کے لیے قرآن نازل کر کے فرمایا۔ اب اس سورہ میں اسی کا حوالہ، بغیر کسی تمہید کے، دے کر بتایا کہ ہم نے اس کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ ’اَنْزَلْنٰہُ‘ میں ضمیر مفعول اگرچہ بظاہر مرجع کے بغیر آ گئی ہے لیکن قرینہ بالکل واضح ہے اس وجہ سے اس طرح ضمیر لانے میں کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ غور کیجیے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں ایک سورہ کے بعد دوسری سورہ جو آتی ہے تو وہ بغیر کسی تعلق کے نہیں آ جاتی بلکہ سابق اور لاحق دونوں میں نہایت گہرا ظاہری اور باطنی ربط ہوتا ہے۔ ’اِنَّا‘ میں جو زور اور تاکید ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کتاب نہ اس کے پیش کرنے والے کی ذاتی اُپج کا نتیجہ ہے نہ اس میں کسی شیطانی تحریک یا وسوسہ کو کوئی دخل ہے، جیسا کہ اس کے مخالفین سمجھتے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی جانب سے خلق کی تعلیم و ہدایت کے لیے اتاری ہے، کسی دوسری طاقت کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ لیلۃ القدر: ’لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ‘ سے مراد امور یا تقسیم امور کی وہ رات ہے جس کا ذکر سورۂ دخان میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: اِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِیْنَ ۵ فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیْمٍ ۵ أَمْراً مِّنْ عِندِنَا إِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ (الدخان ۴۴: ۳-۴) ’’ہم نے اس (قرآن) کو ایک نہایت مبارک رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کرنے والے ہیں۔ اسی رات میں تمام حکیمانہ امور کی تقسیم ہوتی ہے۔ خاص ہمارے حکم سے، بے شک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔‘‘ اس آیت پر تدبر کی نظر ڈالیے تو اس سے دو باتیں بالکل واضح طور پر نکلتی ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مبارک رات خاص اس کام کے لیے مقرر فرمائی ہے جس میں وہ تمام امور، جو اس عالم میں نافذ ہونے والے ہوتے ہیں، ان ملائکہ کے سپرد کیے جاتے ہیں جو کو نافذ کرتے ہیں۔ دوسری یہ کہ نبی ﷺ کی بعثت، قرآن کا نزول اور قریش کو انذار ان اہم امور میں سے ہیں جن کی تنفیذ کا کام اسی مبارک رات میں متعلق فرشتوں کے حوالہ ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اہم اسکیموں اور عظیم منصوبوں میں سے ہے اور ضروری ہے کہ یہ اپنے آخری مراحل تک پہنچے۔ اس رات میں قرآن کے اتارے جانے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اسی ایک رات میں اتار دیا گیا ہو بلکہ اس کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ اس میں اتارے جانے کا فیصلہ ہو گیا، جبریل امینؑ کو یہ کام سپرد کر دیا گیا اور پہلی وحی اسی رات میں نازل ہو گئی۔ اس کے بعد اگر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا اور تئیس سال کی مدت میں تمام ہوا تو اس بات میں اور اس آیت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔