تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 97. Al-Qadr · Ayah 2
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ﴿2﴾
- وَمَآاور کیا
- اَدْرٰىكَآپ نے سمجھا
- مَاکیا ہے
- لَيْلَةُ الْقَدْرِلیلۃ القدر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شب قدر کی عظمت: یہ شب قدر کی عظمت و برکت واضح فرمائی ہے کہ وہ ایسی باعظمت و بابرکت رات ہے کہ اس کی عظمتوں اور برکتوں کا کما حقہٗ اندازہ نہیں کرایا جا سکتا۔ اس کی یہ عظمت و برکت اس وجہ سے ہے کہ اس میں اس کائنات سے متعلق بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ جب اس دنیا کی چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے وہ دن بڑی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں جن میں وہ اپنے سال بھر کے منصوبے طے کرتی ہیں تو اس رات کی اہمیت کا اندازہ کون کر سکتا ہے جس میں پوری کائنات کے لیے خدائی پروگرام طے ہوتا اور سارے جہان کا فیصلہ ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ فیصلے رحمت اور عذاب، نصب اور عزل، فتح اور شکست دونوں طرح کے امور سے متعلق ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ اس کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا ہر فیصلہ عدل، رحم اور حکمت پر مبنی اور جس کا ہر کام اس مجموعی دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتا ہے اس وجہ سے اس رات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے مجموعی حیثیت سے مبارک ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ سورۂ دخان کی مذکورہ آیت میں اس رات کو ’لَیْْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور آگے اس سورہ میں اس کو ہزار مہینوں سے بڑھ کر قرار دیا ہے۔ اس کی ان صفتوں کے بیان سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، قرآن کے مخالفوں کو یہ آگاہی دینا ہے کہ ایسی عظیم اور مبارک رات میں نازل ہونے والی کتاب کو اگر کسی نے کہانت، نجوم اور شاعری کے قسم کی کوئی چیز سمجھا تو وہ گہر اور پشیز میں امتیاز کرنے سے قاصر رہا۔ اس مبارک رات میں شیطانی القاء کی تمام راہیں مسدود ہوتی ہیں۔ اس میں وحی کا ابرنیساں برستا ہے جس کا ایک ایک قطرہ ایک گوہر گراں مایہ ہوتا ہے۔