تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 97. Al-Qadr · Ayah 3
لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ﴿3﴾
- لَيْلَةُ الْقَدْرِلیلۃ القدر
- خَيْرٌبہتر
- مِّنْسے
- اَلْفِ شَهْرٍہزار مہینے
Translation · Tadabbur-e-Quran
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لیلۃ القدر کی برکت: یہ اس رات کی برکت بیان ہوئی ہے کہ یہ ایک رات ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ بہتری، ظاہر ہے کہ حصول مقصد کے اعتبار سے ہے۔ جس طرح اس مادی دنیا میں فصلوں، موسموں اور اوقات کا اعتبار ہے اسی طرح روحانی عالم میں بھی ان کا اعتبار ہے۔ جس طرح خاص خاص چیزوں کے بونے کے لیے خاص خاص موسم اور مہینے ہیں، ان میں آپ بوتے ہیں تو وہ پروان چڑھتی اور مثمر ہوتی ہیں اور اگر ان موسموں اور مہینوں کو آپ نظر انداز کر دیتے ہیں تو دوسرے مہینوں کی طویل سے طویل مدت بھی ان کا بدل نہیں ہو سکتی اسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص خاص کاموں کے لیے خاص موسم اور خاص اوقات و ایام مقرر ہیں۔ اگر ان اوقات و ایام میں وہ کام کیے جاتے ہیں تو وہ مطلوبہ نتائج پیدا کرتے ہیں اور اگر وہ ایام و اوقات نظر انداز ہو جاتے ہیں تو دوسرے ایام و اوقات کی زیادہ سے زیادہ مقدار بھی ان کی صحیح قائم مقامی نہیں کر سکتی۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیے کہ جمعہ کے لیے ایک خاص دن ہے۔ روزوں کے لیے ایک خاص مہینہ ہے۔ حج کے لیے خاص مہینہ اور خاص ایام ہیں۔ وقوف عرفہ کے لیے معینہ دن ہے۔ ان تمام ایام و اوقات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی عبادتیں مقرر کر رکھی ہیں جن کے اجر و ثواب کی کوئی حد و نہایت نہیں ہے لیکن ان کی ساری برکتیں اپنی اصلی صورت میں تبھی ظاہر ہوتی ہیں جب یہ ٹھیک ٹھیک ان ایام و اوقات کی پابندی کے ساتھ عمل میں لائی جائیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ برکت فوت ہو جاتی ہے جو ان کے اندر مضمر ہوتی ہے۔
یہی حال لیلۃ القدر کا ہے۔ یہ بڑی برکتوں اور رحمتوں کی رات ہے۔ بندہ اگر اس کی جستجو میں کامیاب ہو جائے تو اس ایک ہی رات میں خدا کے قرب کی وہ اتنی منزلیں طے کر سکتا ہے جتنی ہزار راتوں میں نہیں کر سکتا۔ ’ہزار راتوں‘ کی تعبیر بیان کثرت کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور بیان نسبت کے لیے بھی لیکن مدعا کے اعتبار سے دونوں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہو گا۔ مقصود یہی بتانا ہے کہ اس رات کے پردوں میں روح و دل کی زندگی کے بڑے خزانے چھپے ہوئے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اس کی جستجو میں سرگرم رہ سکیں اور اس کو پانے میں کامیاب ہو جائیں!
لیلۃ القدر کی تعیین میں اختلاف: اس رات سے متعلق یہ بات تو مسلم ہے کہ اس میں قرآن کے نزول کا آغاز ہوا اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ یہ رمضان کی کوئی رات ہے۔ دوسرے مقام میں یہ تصریح ہے کہ قرآن رمضان کے مہینے میں نازل ہوا:
’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنۡزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ‘ (البقرہ ۲: ۱۸۵)
(رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا)
رہا یہ سوال کہ یہ رمضان کی کون سی تاریخ ہے تو روایات کے اختلاف کے سبب سے اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے بس زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اس کے ہونے کا گمان غالب ہے۔
اس باب میں جو روایات وارد ہیں ان کے اختلاف کے باعث بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ یہ رمضان ہی کے مہینہ کے ساتھ مخصوص ہے یا کسی دوسرے مہینہ میں بھی اس کے پائے جانے کا امکان ہے؟ اسی طرح یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اس کی میعاد ایک سال ہے یا اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے؟ ان سوالوں کے اطمینان بخش جواب کا انحصار تمام روایات باب کی تحقیق و تنقید پر ہے اور یہ ایک طویل بحث ہے جس کے لیے یہاں گنجائش نہیں ہے۔ ہم نے ان کی طرف یہاں صرف اس مقصد سے اشارہ کر دیا ہے کہ اہل علم ان پر نگاہ رکھیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو حدیث پر اپنی پیش نظر کتاب لکھنے کا موقع عنایت فرمایا تو شاید اس میں یہ سوالات زیربحث آئیں۔