تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 97. Al-Qadr · Ayah 4
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ﴿4﴾
- تَنَزَّلُاترتے ہیں
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- وَالرُّوْحُاور روح
- فِيْهَااس میں
- بِاِذْنِحکم سے
- رَبِّهِمْان کے رب کے
- مِنْسے
- كُلِّ اَمْرٍہر حکم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس میں فرشتے اور روح اترتے ہیں، ہر امر میں، اپنے رب کی اجازت کے ساتھ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس رات کا اصل کام: یہ اس رات کے تقدیر امور یا تقسیم امور کی رات ہونے کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اس میں ملائکہ اور جبریل امین علیہ السلام ان تمام معاملات میں جو زمین میں نافذ ہونے والے ہوتے ہیں اللہ تعالی کی منظوری لے کر اترتے ہیں۔ یہی بات سورہ دخان میں
’فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ۵ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا‘ (الدخان ۴۴: ۴-۵)
(اسی رات میں تمام حکیمانہ امور کی تقسیم ہوتی ہے خاص ہمارے حکم سے)
کے الفاظ سے ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے تحت جو امور طے کر رکھے ہیں وہ اسی رات میں تقسیم ہوتے ہیں اور متعلق فرشتے اللہ تعالی کے اذن (SANCTION) سے ان کی تنفیذ کے لیے زمین میں اترتے ہیں۔ لفظ ’اَلرُّوْحُ‘ اس آیت میں، قرینہ دلیل ہے کہ، حضرت جبریل امین علیہ السلام کے لیے ہے۔ چونکہ ملائکہ کے زمرے میں ان کا درجہ بہت اونچا ہے اس وجہ سے ان کا ذکر خاص طور پر ہوا۔