Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 97. Al-Qadr · Ayah 5

  1. سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ع﴿5﴾

    1. سَلٰمٌسلامتی
    2. ڕهِيَ حَتّٰىوہ۔ جب تک
    3. مَطْلَعِطلوع ہونا
    4. الْفَجْرِفجر (صبح)
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ یکسر امان ہے ! یہ صبح کے نمودار ہونے تک ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس رات میں شیاطین پابند ہوتے ہیں: یہ اس رات کے اس پہلو کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر ’خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ رات کلیۃً امان ہی امان ہے اور اس کی یہ برکت طلوع فجر تک محیط ہے۔ ’سَلٰمٌ‘ میرے نزدیک مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ پورا جملہ ’ہِیَ سَلٰمٌ‘ ہے۔ پوری توجہ خبر پر مرکوز کر دینے کے لیے مبتدا کو حذف کر دیا ہے۔ جس طرح ’زَیْدٌ عَدْلٌ‘ میں لفظ ’عَدْلٌ‘ میں مبالغہ کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے اسی طرح ’سَلٰمٌ‘ میں بھی مبالغہ کا مفہوم ہے۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔ لفظ ’سَلٰمٌ‘ میں یوں تو ہر قسم کی آفات سے محفوظ ہونے کی ضمانت ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس مبارک رات میں شیاطین کی ہر قسم کی دوا دوش پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ جس طرح وحی کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے حدود میں ان کی مداخلت کی تمام راہیں مسدود کر دی گئیں، جس کی تفصیل قرآن میں موجود ہے، اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر میں شیاطین آسمانی کرفیو کے تحت ہوتے ہیں اور ان پر یہ کرفیو فجر تک نافذ رہتا ہے۔ جس کے سبب سے نہ وہ اس اہم رات کے اسرار معلوم کرنے کے لیے کوئی نقل و حرکت کر سکتے اور نہ شب مبارک کی برکتوں میں کوئی خلل پیدا کر سکتے۔