تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 1
لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ﴿1﴾
- لَمْ يَكُنِنہ تھے
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ جو کفر کیا
- مِنْسے
- اَهْلِ الْكِتٰبِاہل کتاب
- وَالْمُشْرِكِيْنَاور مشرکین
- مُنْفَكِّيْنَباز آنے والے
- حَتّٰىیہاں تک کہ
- تَاْتِيَهُمُآئے ان کے پاس
- الْبَيِّنَةُکھلی دلیل
Translation · Tadabbur-e-Quran
اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے (قرآن کا) انکار کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانی آجائے …
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اہل کتاب اور مشرکین کا ضدی گروہ: یہاں ’لَمْ یَکُنْ‘ فعل ناقص کے مفہوم میں نہیں بلکہ جس طرح
’وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘ (النساء ۴: ۱۷)
(اللہ علیم و حکیم ہے)
میں ہے اسی طرح یہاں بھی فعل تام کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ یوں ہونا چاہیے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے قرآن اور رسول کا کفر کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں جب تک کھلی نشانی نہیں دیکھ لیں گے۔
’کَفَرُوْا‘ کا مفعول یہاں، قرینہ کی وضاحت کی بنا پر، محذوف ہے۔ یعنی جنھوں نے قرآن اور رسول کا انکار کر دیا ہے۔
’اہل کتاب‘ اور ’مشرکین‘ کا ذکر یہاں بحیثیت دو گروہوں کے ہے جو اس دور میں نبی ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ مشرکین علانیہ طور پر اور اہل کتاب، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، خفیہ طور پر۔ لفظ ’مشرکین‘ جب یوں آتا ہے، جس طرح یہاں آیا ہے، تو مشرکین قریش یا مشرکین بنی اسمٰعیل کے لیے بطور عَلَم آتا ہے۔ اس استعمال کی مثالیں قرآن میں متعدد نہایت واضح موجود ہیں۔
’مِنْ‘ یہاں اپنے معروف استعمال یعنی تبعیض ہی کے لیے ہے اس لیے کہ یہاں مشرکین اور اہل کتاب میں سے اس گروہ کا کردار بیان ہو رہا ہے جو اسلام کی مخالفت کے لیے اندھا بہرا بن کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ان دونوں گروہوں میں سب ایک ہی طرح کے نہیں تھے بلکہ ان میں ایسے سنجیدہ افراد بھی تھے جو اسلام لائے اور اگر اسلام نہیں لائے تو کم از کم اس معاملے میں وہ میانہ رو یا غیر جانب دار رہے۔ قرآن میں اس طرح کے لوگوں کا ذکر تحسین کے ساتھ ہوا ہے۔ یہاں ’مِنْ‘ اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے کہ یہ صرف اس گروہ کا کردار بیان ہو رہا ہے جو اپنے مطلوبہ معجزات دیکھے بغیر کوئی بات سننے سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
ضدیوں کا مطالبہ: ’حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ‘۔ یہ ان ضدیوں کی وہ شرط بیان ہوئی جس کے پورے ہوئے بغیر وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ’بَیِّنَۃُ‘ کے معنی کھلی ہوئی نشانی کے ہیں۔ ’کھلی ہوئی نشانی‘ سے ان کی مراد یہ تھی کہ ان کو کوئی ایسا واضح معجزہ دکھایا جائے جس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ان کے اس مطالبہ کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم بعض مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے ان کے ذہن کا کچھ اندازہ ہو سکے گا۔
سورۂ نساء میں اہل کتاب کے مطالبہ کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
یَسْئَلُکَ أَہْلُ الْکِتَابِ أَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَأَلُوۡا مُوۡسٰی أَکْبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡا أَرِنَا اللہِ جَہْرَۃً (النساء ۴: ۱۵۳)
’’اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے براہ راست ایک کتاب اتارو تب وہ مانیں گے۔ ان کا یہ مطالبہ کچھ عجیب نہیں۔ موسیٰ سے تو انھوں نے اس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھاؤ تب ہم مانیں گے۔‘‘
اسی طرح مشرکین سے متعلق قرآن نے سورۂ مدثر میں بیان فرمایا ہے:
بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِئً مِّنْہُمْ أَنۡ یُؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً (المدثر ۷۴: ۵۲)
’’بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے صحیفے پکڑائے جائیں۔‘‘
یعنی وہ اس قرآن کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو وحی کے ذریعے سے صرف ایک شخص پر نازل ہوتا ہے بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ آسمان سے ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ صحیفے اتریں۔ تب وہ یقین کریں گے کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے کتاب اتاری ہے۔