تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 2
رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ﴿2﴾
- رَسُوْلٌرسول
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- يَتْلُوْا صُحُفًاپڑھتا ہے۔ صحیفے
- مُّطَهَّرَةًپاک
Translation · Tadabbur-e-Quran
یعنی اللہ کی طرف سے ایک فرستادہ، پاکیزہ اوراق پڑھتا ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ’اَلْبَیِّنَۃُ‘ کی وضاحت ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم سے منوانا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ براہ راست پاک اور اچھوتے اوراق پڑھتا ہوا اترے جس میں نہایت واضح اور قطعی احکام مرقوم ہیں۔
’رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ ان کا منشا یہ تھا کہ انسانوں میں سے اٹھا ہوا کوئی رسول جو مدعی ہو کہ اس پر وحی آتی ہے، ان کو مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا کوئی فرشتہ چاہتے ہیں جو پاک اور اچھوتے اوراق پڑھتا ہوا اترے۔
’صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً‘۔ ’صَحِیْفَۃٌ‘ ورق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتہ کی بات بھی اس صورت میں باور کریں گے جب وہ خدا کی طرف سے صرف خبر دینے والا نہ ہو بلکہ جو کچھ لائے، لکھے ہوئے اوراق میں لائے اور اس کو پڑھ کر سنائے۔ ان اوراق کے لیے ’مُطَہَّرَۃً‘ کی صفت میں یہ مضمون مضمر ہے کہ یہ اوراق بالکل پاکیزہ اور اچھوتے ہوں، خدا اور فرشتہ کے سوا کسی جن و بشر نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔