تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 3
فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ﴿3﴾
- فِيْهَااس میں
- كُتُبٌلکھے ہوئے
- قَيِّمَةٌمضبوط
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس میں صاف احکام لکھے ہوئے ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فِیْہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ‘۔ مذکورہ شرائط کے اوپر ایک مزید شرط یہ بھی کہ ان اوراق میں ادھر ادھر کی بہت سی سرگزشتیں اور حکایتیں نہ ہوں بلکہ سیدھے سیدھے قطعی اور واضح احکام ہوں کہ وہ ان کو سن کر بے تکلف جان لیں کہ ان کا رب ان کو کن باتوں کا حکم دیتا ہے اور کن باتوں سے روکتا ہے۔
’کُتُبٌ‘ جمع ہے ’کِتَابٌ‘ کی۔ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔۱ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ یہ لفظ قرآن میں شریعت کے احکام کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہاں یہ اسی معنی میں ہے۔
’قَیِّمَۃٌ‘ کے معنی سیدھے، واضح اور قطعی کے ہیں۔ یعنی ہمیں قطعی احکام بتائے جائیں، غیر متعلق باتیں سننے کے خواہش مند ہم نہیں ہیں۔ اس لفظ میں ان شریر لوگوں کی طرف سے قرآن مجید پر جو تعریض ہے وہ اہل ذوق خود سمجھ سکتے ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح تورات کے احکام عشرہ الواح میں لکھ کر دیے گئے تھے اسی طرح واضح احکام، اوراق میں لکھے ہوئے لے کر فرشتہ آسمان سے ہمارے اوپر اترے تب ہم مانیں گے کہ یہ خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول، صفحہ: ۴۲۔