تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 4
وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ﴿4﴾
- وَمَا تَفَرَّقَاور نہ جدا جدا ہوئے
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- اُوْتُوا الْكِتٰبَکتاب دئیے گئے
- اِلَّامگر
- مِنْۢ بَعْدِاسکے بعد
- مَاجب
- جَآءَتْهُمُانکے پاس آگئی
- الْبَيِّنَةُکھلی بات
Translation · Tadabbur-e-Quran
حالانکہ اہل کتاب کھلی ہوئی نشانی آجانے کے بعد ہی اختلاف میں پڑے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اہل کتاب کے القاء کردہ مطالبہ کا جواب: یہ مطالبہ چونکہ اہل کتاب کی ایجادات میں سے تھا جو انھوں نے قریش کے لیڈروں کو اس لیے سکھایا تھا کہ وہ اس کو قرآن کے خلاف استعمال کریں، اس وجہ سے قرآن نے اس کا جواب انہی کو سامنے رکھ کر دیا۔ فرمایا کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا بھی دیا جائے جب بھی یہ ماننے والے اسامی نہیں ہیں۔ ان کی تاریخ شاہد ہے کہ ان کو جو شریعت دی گئی تھی وہ نہایت کھلے ہوئے معجزات کے جلو میں دی گئی تھی، ان کے پیغمبر، حضرت موسیٰ نے قدم قدم پر ان کو قدرت خداوندی کے وہ کرشمے دکھائے جو کسی قوم کو ان سے پہلے نہیں دکھائے گئے، تورات کے احکام عشرہ ان کو الواح میں لکھ کر دیے گئے۔ ان سے شریعت کا عہد لیتے وقت پہاڑ ان کے اوپر چھتری کی طرح اڑھا دیا گیا، ان کے لیے صحرا میں سایہ اور من و سلویٰ کا انتظام کیا گیا، پہاڑ سے ان کے لیے اکٹھے بارہ چشمے جاری کر دیے گئے لیکن یہ سارے کرشمے اور معجزے دیکھنے کے بعد شریعت الٰہی کے ساتھ وفاداری کا حق انھوں نے یوں ادا کیا کہ سامری سے ایک بچھڑا بنوا کر اس کی پوجا شروع کر دی کہ یہی ہمارا معبود ہے۔ ان کے اسی فساد سے ان کے اندر سب سے پہلے انتشار پیدا ہوا جو امتداد زمانہ کے ساتھ بڑھتا گیا یہاں تک کہ اختلاف کے سوا کوئی چیز بھی ان کے درمیان مشترک نہیں رہ گئی۔