Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 5

  1. وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ﴿5﴾

    1. وَمَآ اُمِرُوْٓااور نہ حکم دیا گیا
    2. اِلَّامگر
    3. لِيَعْبُدُوا اللّٰهَیہ کہ عبادت کریں اللہ کی
    4. مُخْلِصِيْنَخاص کرتے ہوئے
    5. لَهُ الدِّيْنَاسکے لئے دین
    6. حُنَفَآءَیک رخ
    7. وَيُقِيْمُوااور قائم کریں
    8. الصَّلٰوةَنماز
    9. وَيُؤْتُوااور ادا کریں
    10. الزَّكٰوةَزکوۃ
    11. وَذٰلِكَاور یہ
    12. دِيْنُ الْقَيِّمَةِدین مضبوط
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ، بالکل یکسو ہو کر اور نماز کا اہتمام رکجھیں اور زکواۃ دیں اور یہی سیدھی ملت کا دین ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس تفرق کی مثال ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ دین کی بنیادی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی باقی نہیں رہ گئی ہے جس پر یہ قائم و استوار ہوں بلکہ ہر چیز میں ان کی راہیں الگ الگ ہو گئیں یہاں تک کہ اپنے اس اختلاف کی بدولت وہ ان کو ضائع کر بیٹھے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توحید کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں اسی کے لیے اطاعت کو خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، لیکن انھوں نے دین کی یہ بنیادی تعلیم برباد کر دی۔ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں انھوں نے ایک بچھڑے کی پرستش کی، عزیر کو ابن اللہ اور اپنے علماء و فقہاء کو ’اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘ بنایا۔ جادو اور اعمال سفلیہ اختیار کر لیے یہاں تک کہ دوسری قوموں کے بتوں کی بھی پوجا کی جس پر ان کے نبیوں نے نہایت درد انگیز الفاظ میں نوحہ کیا۔ اسی طرح انھیں نماز اور زکوٰۃ کا بھی حکم دیا گیا تھا لیکن نماز انھوں نے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے، بالکل ہی ضائع کر دی یہاں تک کہ تورات میں اس کا ذکر بھی باقی نہیں رہا۔ تورات میں قربانی کا ذکر آتا ہے لیکن نماز کا ذکر بمنزلہ صفر ہے۔ یہی حال زکوٰۃ کا بھی ہوا۔ رسمی طور پر تو وہ باقی رہی لیکن اس کے اصلی حق دار فقراء و غرباء کی جگہ بنی لاوی کے علماء و فقہاء بن گئے اور ان کے علماء و فقہاء کی خِسّت و بخالت کا جو حال رہا ہے اس کا اندازہ کرنا ہو تو انجیلوں اور دوسرے نبیوں کے صحیفوں میں ان کی زرپرستی کی جو تصویر کھینچی گئی ہے اس کو ملاحظہ فرمائیے۔ ’وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ‘۔ یہ جواب ہے ان کے اس مطالبہ کا جو اوپر ’فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ‘ کے الفاظ میں نقل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ فی الواقع سیدھے اور واضح دین ہی کے طالب ہیں تو یہ احکام تو انھیں سیدھے اور فطری دین ملت ابراہیم کے احکام کی حیثیت سے دیے گئے تھے تو انھوں نے آخر ان کو کیوں برباد کیا؟ اور یہ قرآن بھی ان کو انہی واضح اور قطعی باتوں کی طرف بلا رہا ہے تو اس کی مخالفت کے درپے کیوں ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب جو سوالات اٹھا رہے ہیں یہ محض ان کے حسد کی پیداوار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ خود اپنے کو اللہ کی شریعت سے محروم کیے بیٹھے ہیں اسی طرح دوسرے بھی اس سے محروم ہی رہیں۔ دین قیم: ’ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ‘۔ یہ اصل میں ’ذٰلِکَ دِیْنُ الْمِلَّۃِ الْقَیِّمَۃِ‘ ہے۔ ’قَیِّمَۃ‘ کا موصوف یہاں حذف ہو گیا ہے اور اس قسم کا حذف، قرینہ موجود ہو تو عربی میں معروف ہے۔ اس اسلوب بیان سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ دین کی یہی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جو حضرت ابراہیم کے خاندان کی دونوں شاخوں کو ان کے جد اعلیٰ کی وراثت کی حیثیت سے منتقل ہوئیں۔ تو حیف ہے، اگر انہی کی مخالفت کے لیے دونوں شاخیں گٹھ جوڑ کرنے کی کوشش کریں۔ یہ امر واضح رہے کہ ملت ابراہیم کا تعارف قرآن میں جگہ جگہ ’مِلَّۃٌ قَیِّمَۃٌ‘ کی صفت سے کرایا گیا ہے۔ اس ملت پر مفصل بحث اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں ہم صرف ایک آیت کے حوالہ پر اکتفا کریں گے۔ فرمایا ہے: قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا. (الانعام ۶: ۱۶۱) (کہہ دو۔ میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی ہے۔ فطری دین، ملت ابراہیم کی طرف یکسو ہو کر)۔