Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 6

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ﴿6﴾

    1. اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْابیشک جن لوگوں نے کفر کیا
    2. مِنْسے
    3. اَهْلِ الْكِتٰبِاہل کتاب
    4. وَالْمُشْرِكِيْنَاور مشرکین
    5. فِيْمیں
    6. نَارِ جَهَنَّمَجہنم کی آگ
    7. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
    8. فِيْهَااس میں
    9. ۭ اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    10. هُمْوہ
    11. شَرُّ الْبَرِيَّةِبدترین مخلوق
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا، وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے۔ اسی میں ہمیشہ رہنے کے لئے یہی لوگ بدترین خلائق ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اہل کتاب اور مشرکین کے کبر و غرور پر ضرب: یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے جو قرآن کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین سے۔ ساتھ ہی اس میں ان کے اس کبر و غرور پر بھی ضرب لگائی ہے جو اس تکذیب کا سبب بنا۔ فرمایا کہ جو بھی قرآن کی تکذیب کر کے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں وہ سب جہنم میں بھر دیے جائیں گے، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے۔ اہل کتاب ہو کر جنھوں نے اسی اندھے پن کا ثبوت دیا جس کا مظاہرہ مشرکین نے کیا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ کسی رعایت کے مستحق ٹھہریں۔ ساتھ ہی یہ تاکید بھی ہے کہ یہ اس جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل کیے جائیں گے۔ یہ نہیں ہو گا کہ چند دنوں کے بعد اس سے ان کو نکلنا نصیب ہو جائے۔ یہاں اہل کتاب کے اس زعم پر نظر رہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ فرمایا ہے کہ ان کا گمان یہ ہے کہ اول تو دوزخ کی آگ سے ان کو کوئی سابقہ پڑنے والا نہیں ہے اور پڑا بھی تو وہ چند دنوں سے زیادہ کے لیے نہیں ہو گا۔ ’اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ‘۔ یہ ان کے کبر پر ضرب لگائی گئی ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین کے سردار، قرآن اور پیغمبر پر ایمان لانے کے لیے یہ شرط جو لگاتے تھے کہ جب تک کوئی فرشتہ آسمان سے اچھوتے صحیفے پڑھتا نہیں اترے گا یا جب تک ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں کھلے صحیفے نہیں پکڑائے جائیں گے اس وقت تک وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ محمد ﷺ اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ شرط وہ اس غرور کی بنا پر لگاتے تھے کہ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو، جو دنیوی اعتبار سے ان سے فروتر بھی ہے، خدا کا رسول مان کر اس کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میں کس طرح ڈال لیں! ان کا یہ غرور ان کے لیے قبول حق سے مانع بنا حالانکہ حق خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اللہ تعالیٰ کی طرف ہے جس کے آگے گردن جھکا دینا ہر ایک پر واجب ہے خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو یا غلام۔ اگر کوئی شخص حق سے اکڑتا ہے تو وہ ابلیس کی ذریت میں سے ہے اور ابلیس کی ذریت بدترین خلائق ہے جس کا ٹھکانا صرف جہنم ہے۔