تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 7
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ﴿7﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کئے
- الصّٰلِحٰتِنیک
- ۙ اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- هُمْوہ
- خَيْرُ الْبَرِيَّةِبہترین مخلوق
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے وہ بہترین خلائق ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان بندوں کا بیان جو استکبار سے پاک رہے: یہ اللہ کے ان بندوں کا بیان ہے جو کبر و غرور کی آلائش سے پاک رہے اس وجہ سے ان کے اندر حق کا احترام باقی رہا۔ انھوں نے جب رسول کی دعوت سنی تو اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جس طرح کا مطالبہ مغروروں نے کیا بلکہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائے اور عمل صالح کی راہ پر چل پڑے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو بہترین خلائق ہیں۔ اس لیے کہ انسان کی قدر و قیمت مال و اسباب سے اور خاندان سے نہیں بلکہ اس کے عقل و اخلاقی اوصاف سے ہے۔ جن کے اندر یہ اوصاف موجود ہیں اللہ کے نزدیک وہی اشراف و سادات ہیں اگرچہ وہ روم یا حبش کے غلام ہوں اور جو ان اوصاف سے محروم ہیں وہ اللہ کے نزدیک ارذل خلائق ہیں اگرچہ وہ قرشی و ہاشمی سادات ہوں۔ یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے قریش کے لیڈروں کی وہ پھبتیاں ذہن میں تازہ کر لیجیے جو ان غریب مسلمانوں پر چست کرتے تھے جو شروع شروع میں اسلام لائے تھے۔ ان کی طرف سے اس توہین و تذلیل کے بعد رب السمٰوٰت والارض کی طرف سے ان کی اس سرفرازی سے کون اندازہ کر سکتا ہے کہ ان کے سر کتنے اونچے ہوئے ہوں گے!
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور جیسا کہ سورۂ تین میں ارشاد ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بہترین ساخت اور نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر یہ اپنی قدر پہچان لے تو یہ ’خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ‘ ہے، خدا کی مخلوقات میں کوئی اس کے برابر کا نہیں۔ اور اگر یہ اپنی حقیقی قدر و قیمت سے بے خبر رہ کر زندگی گزارے تو یہ ’شَرُّ الْبَرِیَّۃِ‘ اور ’رَدَدْنٰہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ‘ کا بالکل صحیح مصداق ہے۔ پھر یہ اتنی پستی میں گرتا ہے جو صرف اسی کے لیے خاص ہے۔ خدا کی کوئی اور مخلوق اس پستی تک نہیں گرتی۔ جس طرح انسان کے عروج کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے زوال کی بھی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ بڑی ہی اعلیٰ بات کہی ہے ان حکماء نے جنھوں نے کہا ہے کہ ’’اے انسان! تو اپنے کو پہچان!‘‘