Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 8

  1. جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ع﴿8﴾

    1. جَزَآؤُهُمْان کی جزا
    2. عِنْدَپاس
    3. رَبِّهِمْان کے رب کے
    4. جَنّٰتُباغ
    5. عَدْنٍہمیشہ رہنے والے
    6. تَجْرِيْبہتی ہیں
    7. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
    8. الْاَنْهٰرُنہریں
    9. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
    10. فِيْهَآاس میں
    11. اَبَدًاہمیشہ ہمیشہ
    12. ۭرَضِيَ اللّٰهُاللہ راضی ہوا
    13. عَنْهُمْان سے
    14. وَرَضُوْا عَنْهُاور وہ راضی اس سے
    15. ۭ ذٰلِكَ لِمَنْیہ ۔ اسکے لئے جو
    16. خَشِيَ رَبَّهٗڈرے اپنے رب سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کا صلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ہے جو اپنے خداوند سے ڈرا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اللہ کے ان بندوں کا صلہ بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ اس دنیا میں ان کے لیے جو آزمائشیں مقدر ہیں، ان سے تو انھیں بہرحال گزرنا ہے لیکن اپنے رب کے پاس ان کے لیے اقامت کے ایسے باغ ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوں گے۔ ’جَنَّاتُ عَدْنٍ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوۡا عَنْہُ‘۔ یعنی اس جنت میں اللہ بھی ان سے راضی اور وہ بھی اس سے راضی۔ اللہ ان سے اس وجہ سے راضی کہ انھوں نے بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ان کو ادا کرنا چاہیے تھا اور جو ان کے رب کے معیار پر پورا اترا اور وہ اللہ سے اس وجہ سے راضی کہ ان کے رب نے نہ صرف وہ وعدے پورے کیے جو ان سے کیے تھے بلکہ ان کو وہ کچھ بخشا جس کا وہ تصور بھی نہ کر سکے تھے۔ ’ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ‘۔ فرمایا کہ یہ مقام ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے رب سے، غیب میں رہتے، ڈرے۔ مطلب یہ ہے کہ جو احمق سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں وہ اسی طرح بھٹکتے رہیں گے۔ ان کا علاج کوئی نہیں کر سکتا۔ اس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ان حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ وہ کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی نہ گزارے اور نہ اس بات کا منتظر رہے کہ سب کچھ سامنے دکھا دیا جائے تو وہ تب مانے گا۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا وہی اس بات کا مستحق ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل عظیم سے نوازے۔ جو اس میں ناکام رہا وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اور اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل کا کوئی حصہ عطا کرے۔