تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 99. Az-Zalzala · Ayah 1
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ﴿1﴾
- اِذَا زُلْزِلَتِجب ہلا ڈالی جائے
- الْاَرْضُزمین
- زِلْزَالَهَااس کا زلزلہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ زمین ہلا دی جائے گی جس طرح اس کہ ہلانا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
جب اس طرح ’اِذَا‘ سے کسی چیز کا بیان ہوتا ہے تو مقصود اس کی یاددہانی ہوتی ہے یعنی اس وقت کو یاد رکھو، اس دن سے ہوشیار رہو، جب کہ ایسا ایسا ہو گا۔ آپ چاہیں تو اس مخفی مضمون کو ترجمے میں ظاہر بھی کر سکتے ہیں۔
زبان کا ایک نکتہ: ’زِلْزَال‘ آیا تو ہے فعل ’زُلْزِلَتِ‘ کی تاکید کے لیے، جس طرح مفعول آیا کرتا ہے، لیکن یہاں زمین کی طرف اس کی اضافت سے مضمون میں ایک خاص اضافہ ہو گیا ہے جس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ آیت کا صحیح زور سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس خاص اسلوب کو سامنے رکھ کر اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ جب کہ زمین ہلا دی جائے گی اس طرح جس طرح زمین کو ہلانے کا حق ہے یا جس طرح اس کا ہلایا جانا مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ہلائے جانے کا صحیح تصور آج ممکن نہیں ہے، پورے کرۂ ارض کا جھنجھوڑا جانا اور اس طرح جھنجھوڑا جانا جس طرح خدا نے مقدر فرمایا ہے تصور سے ایک مافوق حادثہ ہے لیکن یہ پیش آنے والا ہے اس وجہ سے اس کو یاد رکھو، اس سے غافل رہ کر زندگی نہ گزارو۔