تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 109
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿109﴾
- وَاور
- مَآ اَرْسَلْنَاہم نے نہیں بھیجا
- مِنْ قَبْلِكَتم سے پہلے
- اِلَّامگر۔ صرف
- رِجَالًامرد
- نُّوْحِيْٓہم وحی بھیجتے تھے
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- مِّنْسے
- اَهْلِ الْقُرٰىبستیوں والے
- اَکیا
- فَلَمْ يَسِيْرُوْاپس انہوں نے سیر نہیں کی
- فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
- فَيَنْظُرُوْاپس وہ دیکھتے
- كَيْفَکیسا۔ کیا
- كَانَہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
- وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِاور البتہ آخرت کا گھر
- خَيْرٌبہتر
- لِّلَّذِيْنَان کے لیے جو
- اتَّقَوْاانہوں نے پرہیز کیا
- اَفَلَا تَعْقِلُوْنَپس کیا تم سمجھتے نہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے محمد ؐ ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟79
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
79۔ یہاں ایک بہت بڑے مضمون کو دو تین جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے، اس کو اگر کسی تفصیلی عبارت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے یہ لوگ تمہاری بات کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ جو شخص کل ان کے شہر میں پیدا ہوا اور انہی کے درمیان بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوا اس کے متعلق یہ کیسے مان لیں کہ یکایک ایک روز خدا نے اسے اپنا سفیر مقرر کردیا، لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس سے آج دنیا میں پہلی مرتبہ انہی کو سابقہ پیش آیا ہو، اس سے پہلے بھی خدا اپنے نبی بھیج چکا ہتے اور وہ سب بھی انسان ہی تھے، پھر یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ایک اجنبی شخص کسی شہر میں نمودار ہوگیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں، بلکہ جو لوگ بھی انسانوں کی اصلاح کے لیے اٹھائے گئے وہ سب ان کی اپنی ہی بستیوں کے رہنے والے تھے، مسیح، موسی، ابراہیم، نوح (علیہم السلام) آخر کون تھے ؟ اب تم خود ہی دیکھ لو کہ جن قوموں نے ان لوگوں کی دعوت اصلاح کو قبول نہ کیا اور اپنے بےبنیاد تخیلات اور بےلگام خواہشات کے پیچھے چلتی رہیں ان کا انجام کیا ہوا، تم خود اپنے تجارتی سفروں میں عاد، ثمود، مدین اور قوم لوط وغیرہ کے تباہ شدہ علاقوں سے گزرتے رہے ہو، کیا وہاں کوئی سباق تمہیں نہیں ملا ؟ یہ انجام جو انہوں نے دنیا میں دیکھا یہی تو خبر دے رہا ہے کہ عاقبت میں وہ اس سے بد تر انجام دیکھیں گے۔ اور یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کرلی وہ صرف دنیا ہی میں اچھے نہ رہے آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ بہتر ہوگا۔