Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 110

  1. حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴿110﴾

    1. حَتّٰٓيیہاں تک
    2. اِذَاجب
    3. اسْتَيْئَسَمایوس ہونے لگے
    4. الرُّسُلُرسول (جمع)
    5. وَظَنُّوْٓااور انہوں نے گمان کیا
    6. اَنَّهُمْکہ وہ
    7. قَدْ كُذِبُوْاان سے جھوٹ کہا گیا
    8. جَآءَهُمْان کے پاس آئی
    9. نَصْرُنَاہماری مدد
    10. فَنُجِّيَپس بچا دئیے گئے
    11. مَنْجنہیں
    12. نَّشَآءُہم نے چاہا
    13. وَاور
    14. لَا يُرَدُّنہیں پھیرا جاتا
    15. بَاْسُنَاہمارا عذاب
    16. عَنِسے
    17. الْقَوْمِقوم
    18. الْمُجْرِمِيْنَمجرم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا