Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 9

  1. اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ﴿9﴾

    1. اقْتُلُوْامار ڈالو
    2. يُوْسُفَیوسف
    3. اَوِیا
    4. اطْرَحُوْهُاسے ڈال آؤ
    5. اَرْضًاکسی سرزمین
    6. يَّخْلُخالی ہوجائے
    7. لَكُمْتمہارے لیے
    8. وَجْهُمنہ (توجہ)
    9. اَبِيْكُمْتمہارے باپ
    10. وَتَكُوْنُوْااور تم ہوجاؤ
    11. مِنْسے
    12. بَعْدِهٖاس کے بعد
    13. قَوْمًالوگ
    14. صٰلِحِيْنَنیک (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
چلو یُوسف ؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے۔ یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا۔“10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 10 یہ فقرہ ان لوگوں کے نفسیات کی بہترین ترجمانی کرتا ہے جو اپنے آپ کو خواہشات نفس کے حوالے کردینے کے ساتھ ایمان اور نیکی سے بھی کچھ رشتہ جوڑے رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی نفس ان سے کسی برے کام کا تقاضا کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضوں کو ملتوی کر کے پہلے نفس کا تقاضا پورا کرنے پر تل جاتے ہیں اور جب ضمیر اندر سے چٹکیاں لیتا ہے تو اسے یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذرا صبر کر، یہ ناگزیر گناہ، جس سے ہمارا کام اٹکا ہوا ہے، کہ گزرنے دے، پھر انشاء اللہ ہم توبہ کر کے ویسے ہی نیک بن جائیں گے جیسا تو ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔