Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 106

  1. وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا﴿106﴾

    1. وَقُرْاٰنًااور قرآن
    2. فَرَقْنٰهُہم نے جدا جدا کیا
    3. لِتَقْرَاَهٗتاکہ تم اسے پڑھو
    4. عَلَيپر
    5. النَّاسِلوگ
    6. عَلٰي مُكْثٍٹھہر ٹھہر کر
    7. وَّنَزَّلْنٰهُاور ہم نے اسے نازل کیا
    8. تَنْزِيْلًاآہستہ آہستہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سُناوٴ، اور اسے ہم نے(موقع موقع سے)بتدریج اُتارا ہے۔119
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 119 یہ مخالفین کے اس شبہہ کا جواب ہے کہ اللہ میاں کو پیغام بھیجنا تھا تو پورا پیغام بیک وقت کیوں نہ بھیج دیا ؟ یہ آخر ٹھیر ٹھیر کر تھوڑا تھوڑا پیغام کیوں بھیجا جا رہا ہے ؟ کیا خدا کو بھی انسانوں کی طرح سوچ سوچ کر بات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ؟ اس شبہہ کا مفصل جواب سورة نحل آیات 101، 102 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں، اس لیے یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔