Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 110

  1. قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا﴿110﴾

    1. قُلِآپ کہ دیں
    2. ادْعُواتم پکارو
    3. اللّٰهَاللہ
    4. اَوِیا
    5. ادْعُواتم پکارو
    6. الرَّحْمٰنَرحمن
    7. اَيًّا مَّاجو کچھ بھی
    8. تَدْعُوْاتم پکارو گے
    9. فَلَهُتو اسی کے لیے
    10. لْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىسب سے اچھے نام
    11. وَلَا تَجْهَرْاور نہ بلند کرو تم
    12. بِصَلَاتِكَاپنی نماز میں
    13. وَاور
    14. لَا تُخَافِتْنہ بالکل پست کرو تم
    15. بِهَااس میں
    16. وَابْتَغِاور ڈھونڈو
    17. بَيْنَ ذٰلِكَاس کے درمیان
    18. سَبِيْلًاراستہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پُکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پُکارو اُس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔123 اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔124
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 123 یہ جواب ہے مشرکین کے اس اعتراض کا کہ خالق کے لیے " اللہ " کا نام تو ہم نے سنا تھا، مگر یہ " رحمان " کا نام تم نے کہاں سے نکالا ؟ ان کے ہاں چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نام رائج نہ تھا اس لیے وہ اس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 124 ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ مکہ میں جب نبی ﷺ یا دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نماز پڑھتے وقت بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو کفار شور مچانے لگتے اور بسا اوقات گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردیتے تھے۔ اس پر حکم ہوا کہ نہ تو اتنے زور سے پڑھو کہ کفار سن کر ہجوم کریں، اور نہ اس قدر آہستہ پڑھو کہ تمہارے اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں۔ یہ حکم صرف انہی حالات کے لیے تھا۔ مدینے میں جب حالات بدل گئے تو یہ حکم باقی نہ رہا۔ البتہ جب کبھی مسلمانوں کو مکہ سے حالات سے دو چار ہونا پڑے، انہیں اسی ہدایت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔