Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 111

  1. وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ع﴿111﴾

    1. وَقُلِاور کہ دیں
    2. الْحَمْدُتمام تعریفیں
    3. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    4. الَّذِيْوہ جس نے
    5. لَمْ يَتَّخِذْنہیں بنائی
    6. وَلَدًاکوئی اولاد
    7. وَّلَمْ يَكُنْاور نہیں ہے
    8. لَّهٗاس کے لیے
    9. شَرِيْكکوئی شریک
    10. فِي الْمُلْكِسلطنت میں
    11. وَلَمْ يَكُنْاور نہیں ہے
    12. لَّهٗاس کا
    13. وَلِيٌّکوئی مددگار
    14. مِّنَسے۔ سبب
    15. الذُّلِّناتوانی
    16. وَكَبِّرْهُاور اس کی بڑائی کرو
    17. تَكْبِيْرًاخوب بڑائی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کہو”تعریف ہے اُس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اُس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو۔“125 اور اُس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 125 اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے ان مشرکین کے عقائد پر جو مختلف دیوتاؤں اور بزرگ انسانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ میاں نے اپنی خدائی کے مختلف شعبے یا اپنی سلطنت کے مختلف علاقے ان کے انتظام میں دے رکھے ہیں۔ اس بیہودہ عقیدے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی خدائی کا بار سنبھالنے سے عاجز ہے اس لیے وہ اپنے پشتیباں تلاش کر رہا ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا کہ اللہ عاجز نہیں ہے کہ اسے کچھ ڈپٹیوں اور مددگاروں کی حاجت ہو۔