Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 57

Tafseer
  1. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا﴿57﴾

    1. اُولٰٓئِكَوہ لوگ
    2. الَّذِيْنَجنہیں
    3. يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
    4. يَبْتَغُوْنَڈھونڈتے ہیں
    5. اِلٰىطرف
    6. رَبِّهِمُاپنا رب
    7. الْوَسِيْلَةَوسیلہ
    8. اَيُّهُمْان میں سے کون
    9. اَقْرَبُزیادہ قریب
    10. وَيَرْجُوْنَاور وہ امید رکھتے ہیں
    11. رَحْمَتَهٗاس کی رحمت
    12. وَيَخَافُوْنَاور ڈرتے ہیں
    13. عَذَابَهٗاس کا عذاب
    14. اِنَّبیشک
    15. عَذَابَعذاب
    16. رَبِّكَتیرا رب
    17. كَانَہے
    18. مَحْذُوْرًاڈر کی بات
Translation · Tafheem-ul-Quran
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے اُمیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں۔65 حقیقت یہ ہے کہ تیرے ربّ کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 65 یہ الفاظ خود گواہی دے رہے ہیں کہ مشرکین کے جن معبودوں اور فریاد رسوں کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے ان سے مراد پتھر کے بت نہیں ہیں، بلکہ یا تو فرشتے ہیں یا گزرے ہوئے زمانے کے برگزیدہ انسان۔ مطلب صاف صاف یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ہوں یا اولیاء عظام یا فرشتے، کسی کی بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ تمہاری دعائیں سنے اور تمہاری مدد کو پہنچے۔ تم حاجت روائی کے لیے انہیں وسیلہ بنا رہے ہو، اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں، اور اس کا زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرنے کے وسائل ڈھونڈ رہے ہیں۔