Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 19. Maryam · Ayah 59

  1. فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ﴿59﴾

    1. فَخَلَفَپھر جانشین ہوئے
    2. مِنْۢ بَعْدِهِمْان کے بعد
    3. خَلْفٌچند جانشین (ناخلف)
    4. اَضَاعُواانہوں نے گنوادی
    5. الصَّلٰوةَنماز
    6. وَاتَّبَعُوااور پیروی کی
    7. الشَّهَوٰتِخواہشات
    8. فَسَوْفَپس عنقریب
    9. يَلْقَوْنَانہیں ملے گی
    10. غَيًّاگمراہی
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر ان کے بعد وہ نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا 35 اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، 36 پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مَرْیَم 35 یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی، یا نماز سے غفلت اور بےپروائی برتنے لگے۔ یہ ہر امت کے زوال و انحطاط کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اولین رابطہ ہے جو مومن کا زندہ اور عملی تعلق خدا کے ساتھ شب و روز جوڑے رکھتا ہے اور اسے خدا پرستی کے مرکز و محور سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی خدا سے دور اور دور تر ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ عملی تعلق سے گزر کر اس کا خیالی تعلق بھی خدا کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بات ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ پچھلے تمام انبیا کی امتوں کا بگاڑ نماز ضائع کرنے سے شروع ہوا ہے۔ سورة مَرْیَم 36 یہ تعلق باللہ کی کمی اور اس کے فقدان کا لازمی نتیجہ ہے۔ نماز کی اضاعت سے جب دل خدا کی یاد سے غافل رہنے لگے تو جوں یہ غفلت بڑھتی گئی، خواہشات نفس کی بندگی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے اخلاق اور معاملات کا ہر گوشہ احکام الہی کے بجائے اپنے من مانے طریقوں کا پابند ہو کر رہا۔