Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 204

Tafseer
  1. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ﴿204﴾

    1. وَمِنَاور سے
    2. النَّاسِلوگ
    3. مَنجو
    4. يُّعْجِبُكَتمہیں بھلی معلو ہوتی ہے
    5. قَوْلُهٗاس کی بات
    6. فِيمیں
    7. الْحَيٰوةِزندگی
    8. الدُّنْيَادنیا
    9. وَيُشْهِدُاور وہ گواہ بناتا ہے
    10. اللّٰهَاللہ
    11. عَلٰيپر
    12. مَاجو
    13. فِيْ قَلْبِهٖاس کے دل میں
    14. وَھُوَحالانکہ وہ
    15. اَلَدُّسخت
    16. الْخِصَامِجھگڑالو
Translation · Tafheem-ul-Quran
انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے223، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن ِ حق ہوتا ہے۔224
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 223 یعنی کہتا ہے خدا شاہد ہے کہ میں محض طالب خیر ہوں، اپنی ذاتی غرض کے لیے نہیں، بلکہ صرف حق اور صداقت کے لیے یا لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہوں۔ سورة الْبَقَرَة 224 ”اَلَدُّ الْخِصَام“ کے معنی ہیں ”وہ دشمن جو تمام دشمنوں سے زیادہ ٹیڑھا ہو“۔ یعنی جو حق کی مخالفت میں ہر ممکن حربے سے کام لے۔ کسی جھوٹ، کسی بےایمانی، کسی غدر و بد عہدی اور کسی ٹیڑھی سے ٹیڑھی چال کو بھی استعمال کرنے میں تامل نہ کرے۔