Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 109

  1. یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا﴿109﴾

    1. يَوْمَئِذٍاس دن
    2. لَّا تَنْفَعُنہ نفع دے گی
    3. الشَّفَاعَةُکوئی شفاعت
    4. اِلَّامگر
    5. مَنْجس
    6. اَذِنَ لَهُاجازت دے اس کو
    7. الرَّحْمٰنُاللہ
    8. وَرَضِيَاور پسند کرے
    9. لَهٗاس کی
    10. قَوْلًابات
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس روز شفاعت  کار گر نہ ہوگی اِلّا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات سُننا پسند کرے 85
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 85 اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو متن میں کیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ " اس روز شفاعت کارگر نہ ہوگی الا یہ کہ کسی کے حق میں رحمان اس کی اجازت دے اور اس کے لیے بات سننے پر راضی ہو "۔ الفاظ ایسے جامع ہیں جو دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قیامت کے روز کسی کو دم مارنے تک کی جرأت نہ ہوگی کجا کہ کوئی سفارش کے لیے بطور خود زبان کھول سکے۔ سفارش وہی کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ بولنے کی اجازت دے، اور اسی کے حق میں کرسکے گا جس کے لیے بارگاہ الہٰی سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے۔ یہ دونوں باتیں قرآن میں متعدد مقامات پر کھول کر بتادی گئی ہیں۔ ایک طرف فرمایا مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہ اِلَّا بِاِذْنِہ، " کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرسکے " (بقرہ۔ آیت 255)۔ اور یَوْمَ یَقُوْمُ الرَّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا، لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَاباً ، " وہ دن جبکہ روح اور ملائکہ سب صف بستہ کھڑے ہوں گے، ذرا بات نہ کریں گے، صرف وہی بول سکے گا جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے " (النبا۔ آیت 38)۔ دوسری طرف ارشاد ہوا وَلَا یَشْفَعُوْنَاِ الَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہ مُشْفِقُوْنَ ، " اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس شخص کے جس کے حق میں سفارش سننے پر (رحمان) راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے ڈرے رہتے ہیں " (الانبیاء۔ آیت 28)۔ اور کَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُھُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللہُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَرْضٰی، " کتنے ہی فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتی بجز اس صورت کے کہ اللہ سے اجازت لینے کے بعد کی جائے اور ایسے شخص کے حق میں کی جائے جس کے لیے وہ سفارش سننا چاہے اور پسند کرے " (النجم، آیت 26)۔