Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 110

  1. یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا﴿110﴾

    1. يَعْلَمُوہ جانتا ہے
    2. مَاجو
    3. بَيْنَ اَيْدِيْهِمْان کے ہاتھوں کے درمیان ( آگے)
    4. وَمَااور جو
    5. خَلْفَهُمْان کے پیچھے
    6. وَلَا يُحِيْطُوْنَاور وہ احاطہ نہیں کرسکتے
    7. بِهٖاس کا
    8. عِلْمًاعلم کے اندر
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے 86
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 86 یہاں وجہ بتائی گئی ہے کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے۔ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء، کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا کہ کس کا ریکارڈ کیسا ہے، کون دنیا میں کیا کرتا رہا ہے، اور اللہ کی عدالت میں کس سیرت و کردار اور کیسی کیسی ذمہ داریوں کے بار لے کر آیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کو ہر ایک کے پچھلے کارناموں اور کرتوتوں کا بھی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب اس کا موقف کیا ہے۔ نیک ہے تو کیسا نیک ہے اور مجرم ہے تو کس درجے کا مجرم ہے۔ معافی کے قابل ہے یا نہیں۔ پوری سزا کا مستحق ہے یا تخفیف اور رعایت بھی اس کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ ملائکہ اور انبیاء اور صلحاء کو سفارش کی کھلی چھٹی دے دی جائے اور ہر ایک جس کے حق میں جو سفارش چاہے کر دے۔ ایک معمولی افسر اپنے ذرا سے محکمے میں اگر اپنے ہر دوست یا عزیز کی سفارشیں سننے لگے تو چار دن میں سارے محکمے کا ستیاناس کر کے رکھ دے گا۔ پھر بھلا زمین و آسمان کے فرمانروا سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کے ہاں سفارشوں کا بازار گرم ہوگا، اور ہر بزرگ جا جا کر جس کو چاہیں گے بخشوا لائیں گے، درآنحالیکہ ان میں سے کسی بزرگ کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ جن لوگوں کی سفارش وہ کر رہے ہیں ان کے نامۂ اعمال کیسے ہیں۔ دنیا میں جو افسر کچھ بھی احساس ذمہ داری رکھتا ہے اس کی روش یہ ہوتی ہے کہ اگر اس کا کوئی دوست اس کے کسی قصور وار ماتحت کی سفارش لے کرجاتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ آپ کو خبر نہیں ہے کہ یہ شخص کتنا کام چور، نافرض شناس، رشوت خوار اور خلق خدا کو تنگ کرنے والا ہے، میں اس کے کرتوتوں سے واقف ہوں، اس لیے آپ براہ کرم مجھ سے اس کی سفارش نہ فرمائیں۔ اسی چھوٹی سی مثال پر قیاس کر کے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں شفاعت کے متعلق جو قاعدہ بیان کیا گیا ہے وہ کس قدر صحیح، معقول اور مبنی بر انصاف ہے۔ خدا کے ہاں شفاعت کا دروازہ بند نہ ہوگا۔ نیک بندے، جو دنیا میں خلق خدا کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرنے کے عادی تھے، انہیں آخرت میں بھی ہمدردی کا حق ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن وہ سفارش کرنے سے پہلے اجازت طلب کریں گے، اور جس کے حق میں اللہ تعالیٰ انہیں بولنے کی اجازت دے گا صرف اسی کے حق میں وہ سفارش کرسکیں گے۔ پھر سفارش کے لیے بھی شرط یہ ہوگی کہ وہ مناسب اور مبنی برحق ہو، جیسا کہ وَقَالَ صَوَاباً (اور بات ٹھیک کہے) کا ارشاد ربانی صاف بتارہا ہے۔ بونگی سفارشیں کرنے کی وہاں اجازت نہ ہوگی کہ ایک شخص دنیا میں سینکڑوں، ہزاروں بندگان خدا کے حقوق مار آیا ہو اور کوئی بزرگ اٹھ کر سفارش کردیں کہ حضور اسے انعام سے سر فراز فرمائیں یہ میرا خاص آدمی ہے۔