تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 113
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا﴿113﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- اَنْزَلْنٰهُہم نے اس پر نازل کیا
- قُرْاٰنًاقرآن
- عَرَبِيًّاعربی
- وَّصَرَّفْنَا فِيْهِاور ہم نے طرح طرح سے بیان کیے اس میں
- مِنَسے
- الْوَعِيْدِڈراوے
- لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
- يَتَّقُوْنَپرہیزگار ہوجائیں
- اَوْ يُحْدِثُیا وہ پیدا کردے
- لَهُمْان کے لیے
- ذِكْرًاکوئی نصیحت
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اے محمدؐ ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآنِ عربی بنا کر نازل کیا ہے 88 اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہو کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں۔ 89
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سوْرَةُ طٰهٰ 88
یعنی ایسے ہی مضامین اور تعلیمات اور نصائح سے لبریز۔ اس کا اشارہ ان تمام مضامین کی طرف ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، نہ کہ محض قریبی مضمون کی طرف جو اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے۔ اور اس کا سلسلہ بیان ان آیات سے ملتا جلتا ہے جو قرآن کے متعلق آغاز سورة اور پھر قصۂ موسیٰ کے اختتام پر ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ’‘ تذکرہ " جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، اور وہ " ذکر " جو ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو عطا کیا ہے، اس شان کا تذکرہ اور ذکر ہے۔
سورة طٰهٰ 89
یعنی اپنی غفلت سے چونکیں، بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، اور ان کو کچھ اس امر کا احساس ہو کہ کن راہوں میں بھٹکے چلے جا رہے ہیں اور اس گمراہی کا انجام کیا ہے۔