Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 114

  1. فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴿114﴾

    1. فَتَعٰلَى اللّٰهُسو بلندو برتر ہے اللہ
    2. الْمَلِكُبادشاہ
    3. الْحَقُّسچا
    4. وَلَااور نہ
    5. تَعْجَلْجلدی کرو
    6. بِالْقُرْاٰنِقرآن میں
    7. مِنْ قَبْلِاس سے قبل کہ
    8. اَنْکہ
    9. يُّقْضٰٓىپوری کی جائے
    10. اِلَيْكَپوری کی جائے
    11. وَحْيُهٗاس کی وحی
    12. وَقُلْاور کہیے
    13. رَّبِّاے میرے رب
    14. زِدْنِيْزیادہ دے مجھے
    15. عِلْمًاعلم
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس بالا و برتر ہے اللہ ، پادشاہِ حقیقی۔ 90 اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے  مزید علم عطا کر۔ 91
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 90 اس طرح کے فقرے قرآن میں بالعموم ایک تقریر کو ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جاتے ہیں، اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ کلام کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر ہو۔ انداز بیان اور سیاق وسباق پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ایک تقریر ختم ہوگئی ہے اور وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اٰدَمَ۔ سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے۔ اغلب یہ ہے کہ یہ دونوں تقریریں مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہوں گی اور بعد میں نبی ﷺ نے حکم الہٰی کے تحت ان کو ایک سورة میں جمع کردیا ہوگا۔ جمع کرنے کی وجہ دونوں کے مضمون کی مناسبت ہے جس کو ابھی ہم واضح کریں گے۔ سورة طٰهٰ 91 فَتَعٰلَی اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ، پر تقریر ختم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد رخصت ہوتے ہوئے فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ﷺ کو ایک بات پر خبردار کرتا ہے جو وحی نازل کرنے کے دوران میں اس کے مشاہدے میں آئی۔ بیچ میں ٹوکنا مناسب نہ سمجھا گیا، اس لیے پیغام کی ترسیل مکمل کرنے کے بعد اب وہ اس کا نوٹس لے رہا ہے۔ بات کیا تھی جس پر یہ تنبیہ کی گئی، اسے خود تنبیہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں۔ نبی ﷺ وحی کا پیغام وصول کرنے کے دوران میں اسے یاد کرنے اور زبان سے دہرانے کی کوشش فرما رہے ہوں گے۔ اس کوشش کی وجہ سے آپ کی توجہ بار بار بٹ جاتی ہوگی۔ سلسلۂ اخذ وحی میں خلل واقع ہو رہا ہوگا۔ پیغام کی سماعت پر توجہ پوری طرح مرکوز نہ ہو رہی ہوگی۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ آپ کو پیغام وحی وصول کرنے کا صحیح طریقہ سمجھایا جائے، اور بیچ بیچ میں یاد کرنے کی کوشش جو آپ کرتے ہیں اس سے منع کردیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة طٰہ کا یہ حصہ ابتدائی زمانے کی وحیوں میں سے ہے۔ ابتدائی زمانہ میں جبکہ نبی ﷺ کو ابھی اخذ وحی کی عادت اچھی طرح نہ پڑی تھی، آپ سے کئی مرتبہ یہ فعل سرزد ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی فقرہ اس پر آپ کو متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سورة قیامہ کے نزول کے موقع پر بھی یہی ہوا تھا اور اس پر سلسلۂ کلام کو توڑ کر آپ کو ٹوگا گیا کہ لَا تُحَرِّکْ بِہ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہ وَقُرْاٰنَہ، فَاِذَا قَرَأ نٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ۔ " اسے یاد کرنے کی جلدی میں اپنی زبان کو بار بار حرکت نہ دو ، اسے یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے، لہٰذا جب ہم اسے سنا رہے ہوں تو غور سے سنتے رہو، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ " سورة اعلیٰ میں بھی آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہم اسے پڑھوا دیں گے اور آپ بھولیں گے نہیں، سَنْقْرئُکَ فَلَا تَنْسٰی۔ بعد میں جب آپ کو پیغامات وحی وصول کرنے کی اچھی مہارت حاصل ہوگئی تو اس طرح کی کیفیات آپ پر طاری ہونی بند ہوگئیں۔ اسی وجہ سے بعد کی سورتوں میں ایسی کوئی تنبیہ ہمیں نہیں ملتی۔