تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 112
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا﴿112﴾
- وَمَنْاور جو
- يَّعْمَلْکرے
- مِنَسے۔ کوئی
- الصّٰلِحٰتِ وَنیکی اور (بشرطیکہ)
- هُوَوہ
- مُؤْمِنٌمومن
- فَلَا يَخٰفُتو نہ اسے خوف ہوگا
- ظُلْمًاکسی ظلم کا
- وَّلَا هَضْمًااور نہ کسی نقصان کا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔ 87
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 87
یعنی وہاں فیصلہ ہر انسان کے اوصاف (Merits) کی بنیاد پر ہوگا۔ جو شخص کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے آئے گا، خواہ اس نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو، یا خلق خدا کے حقوق پر، یا خود اپنے نفس پر، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور عمل صالح (محض عمل صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح، اور محض ایمان بھی نہیں بلکہ عمل صالح کے ساتھ ایمان) لیے ہوئے آئیں گے، ان کے لیے وہاں نہ تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہوگا۔ یعنی خواہ مخواہ بےقصوران کو سزا دی جائے گی، اور نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور ان کے جائز حقوق مار کھائے جائیں گے۔