Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 117

  1. فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى﴿117﴾

    1. فَقُلْنَاپس ہم نے کہا
    2. يٰٓاٰدَمُاے آدم
    3. اِنَّبیشک
    4. ھٰذَایہ
    5. عَدُوٌّدشمن
    6. لَّكَتمہارا
    7. وَلِزَوْجِكَاور تمہاری بیوی کا
    8. فَلَاسو تمہیں
    9. يُخْرِجَنَّكُمَانہ نکلوا دے
    10. مِنَ الْجَنَّةِجنت سے
    11. فَتَشْقٰيپھر تم مصیبت میں پڑجاؤ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس پر ہم نے آدمؑ 95 سے کہا کہ ”دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے 96 ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے 97 اور تم مصیبت میں پڑ جاو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 95 یہاں وہ اصل حکم بیان نہیں کیا گیا ہے جو آدم ؑ کو دیا گیا تھا، یعنی یہ کہ " اس خاص درخت کا پھل نہ کھانا "۔ وہ حکم دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوچکا ہے۔ اس مقام پر چونکہ بتانے کی اصل چیز صرف یہ ہے کہ انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہ اور فہمائش کے باوجود اپنے جانے بوجھے دشمن کے اغوا سے متاثر ہوجاتا ہے، اور کس طرح اس کی یہی کمزوری اس سے وہ کام کرا لیتی ہے جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کا ذکر کرنے کے بجائے یہاں اس فہمائش کا ذکر کیا ہے جو اس حکم کے ساتھ حضرت آدم کو کی گئی تھی۔ سورة طٰهٰ 96 دشمنی کا مظاہرہ اسی وقت ہوچکا تھا۔ آدم اور حوا (علیہما السلام) خود دیکھ چکے تھے کہ ابلیس نے ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ہے اور صاف صاف یہ کہہ کر کیا ہے کہ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خلقْتَہ مِنْ طِیْنٍ ، " میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے " (اعراف۔ آیت 12۔ ص۔ آیت 76)۔ اَرَاَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّ مْتَ عَلَیَّ ، " ذرا دیکھ تو سہی یہ ہے وہ ہستی جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے " ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْناً ، " اب کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے ؟ " (بنی اسرائیل۔ آیات 61۔ 62)۔ پھر اتنے ہی پر اس نے اکتفا نہ کیا کہ کھلم کھلا اپنے حسد کا اظہار کردیا، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس نے مہلت بھی مانگی کہ مجھے اپنی فضیلت اور اس کی نااہلی ثابت کرنے کا موقع دیجیے، میں اسے بہکا کر آپ کو دکھا دوں گا کہ کیسا ہے یہ آپ کا خلیفہ۔ اعراف، حجر اور بنی اسرائیل میں اس کا یہ چیلنج گزر چکا ہے اور آگے سورة ’ ص ‘ میں بھی آ رہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ یہ تمہارا دشمن ہے، تو یہ محض ایک امر غیب کی اطلاع نہ تھی، بلکہ ایک ایسی چیز تھی جسے عین برسر موقع دونوں میاں بیوی اپنی آنکھوں دیکھ چکے اور اپنے کانوں سن چکے تھے۔ سورة طٰهٰ 97 اس طرح یہ بھی دونوں کو بتادیا گیا کہ اگر اس کے بہکانے میں آ کر تم نے حکم کی خلاف ورزی کی تو جنت میں نہ رہ سکو گے اور وہ تمام نعمتیں تم سے چھن جائیں گی جو تم کو یہاں حاصل ہیں۔