Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 120

  1. فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى﴿120﴾

    1. فَوَسْوَسَپھر وسوسہ ڈالا
    2. اِلَيْهِاسکی طرف (دل میں)
    3. الشَّيْطٰنُشیطان
    4. قَالَاس نے کہا
    5. يٰٓاٰدَمُاے آدم
    6. هَلْکیا
    7. اَدُلُّكَمیں تیری رہنمائی کروں
    8. عَلٰيپر
    9. شَجَرَةِدرخت
    10. الْخُلْدِہمیشگی
    11. وَمُلْكٍاور بادشاہت
    12. لَّا يَبْلٰىنہ پرانی (زوال پذیر) ہو)
Translation · Tafheem-ul-Quran
لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا۔ 99 کہنے لگا ”آدم ، بتاوٴں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟“ 100
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 99 یہاں قرآن صاف تصریح کرتا ہے کہ آدم و حوا میں سے اصل وہ شخص جس کو شیطان نے وسوسے میں ڈالا آدم ؑ تھے نہ کہ حضرت حوا۔ اگرچہ سورة اعراف کے بیان کے مطابق مخاطب دونوں ہی تھے اور بہکانے میں دونوں ہی آئے، لیکن شیطان کی وسوسہ اندازی کا رخ دراصل حضرت آدم ہی کی طرف تھا۔ اس کے برعکس بائیبل کا بیان یہ ہے کہ سانپ نے پہلے عورت سے بات کی اور پھر عورت نے اپنے شوہر کو بہکا کر درخت کا پھل اسے کھلایا (پیدائش، باب 3)۔ سورة طٰهٰ 100 سورة اعراف میں شیطان کی گفتگو کی مزید تفصیل ہم کو یہ ملتی ہے وَقَالَ مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَہِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ ، " اور اس نے کہا کہ تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لیے روک دیا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ ہوجاؤ، یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ " (آیت 20)۔