Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 121

  1. فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ﴿121﴾

    1. فَاَكَلَاپس دونوں نے کھایا
    2. مِنْهَااس سے
    3. فَبَدَتْتو ظاہر ہوگئیں
    4. لَهُمَاان پر
    5. سَوْاٰتُهُمَاان کی شرم گاہیں
    6. وَاور
    7. طَفِقَا يَخْصِفٰنِوہ دونوں لگے جوڑنے (ڈھانپنے)
    8. عَلَيْهِمَااپنے اوپر
    9. مِنْسے
    10. وَّرَقِ الْجَنَّةِجنت کے پتے
    11. وَعَصٰٓىاور نافرمانی کی
    12. اٰدَمُآدم
    13. رَبَّهٗاپنا رب
    14. فَغَوٰىتو وہ بہک گیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
آخر کار دونوں(میاں بیوی)اُس درخت کا پھل کھاگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے۔ 101 آدمؑ نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا۔ 102
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 101 بالفاظ دیگر نافرمانی کا صدور ہوتے ہی وہ آسائشیں ان سے چھین لی گئیں جو سرداری انتظام سے ان کو مہیا کی جاتی تھیں، اور اس کا اولین ظہور لباس چھن جانے کی شکل میں ہوا۔ غذا، پانی اور مسکن سے محرومی کی نوبت تو بعد کو ہی آنی تھی، اس کا پتہ تو بھوک پیاس لگنے پر ہی چل سکتا تھا، اور مکان سے نکالے جانے کی باری بھی بعد ہی میں آسکتی تھی۔ مگر پہلی چیز جس پر نافرمانی کا اثر پڑا وہ سرکاری پوشاک تھی جو اسی وقت اتر والی گئی۔ سورة طٰهٰ 102 یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو آدم ؑ سے ظہور میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کو وہ اپنا خالق اور رب جانتے تھے اور دل سے مانتے تھے۔ جنت میں ان کو جو آسائشیں حاصل تھیں ان کا تجربہ انہیں خود ہر وقت ہو رہا تھا۔ شیطان کے حسد اور عداوت کا بھی ان کو براہ راست علم ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دینے کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ یہ تمہارا دشمن تمہیں نافرمانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کا تمہیں یہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے سامنے چیلنج دے چکا تھا کہ میں اسے بہکاؤں گا اور اس کی بیخ کنی کر کے چھوڑوں گا۔ ان ساری باتوں کے باوجود جب شیطان نے ان کو ناصح مشفق اور خیر خواہ دوست کے بھیس میں آکر ایک بہتر حالت (زندگی جاوداں اور سلطنت لازوال) کا لالچ دلایا تو وہ اس کی تحریص کے مقابلے میں نہ جم سکے اور پھسل گئے، حالانکہ اب بھی خدا پر ان کے عقیدے میں فرق نہ آیا تھا اور اس کے فرمان کے بارے میں ایسا کوئی خیال ان کے ذہن میں نہیں تھا کہ وہ سرے سے واجب الاذعان ہی نہیں ہے۔ بس ایک فوری جذبے نے، جو شیطانی تحریص کے زیر اثر ابھر آیا تھا، ان پر ذہول طاری کردیا اور ضبط نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ طاعت کے مقام بلند سے معصیت کی پستی میں جا گرے۔ یہی وہ " بھول " اور " فقدان عزم " ہے جس کا ذکر قصے کے آغاز میں کیا گیا تھا، اور اسی چیز کا نتیجہ وہ نافرمانی اور بھٹک ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ انسان کی وہ کمزوری ہے جو ابتدائے آفرینش ہی میں اس سے ظاہر ہوئی، اور بعد میں کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا ہے جبکہ یہ کمزوری اس میں نہ پائی گئی ہو۔