تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 122
ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى﴿122﴾
- ثُمَّپھر
- اجْتَبٰىهُاس کو چن لیا
- رَبُّهٗاس کا رب
- فَتَابَتوجہ فرمائی
- عَلَيْهِاس پر
- وَهَدٰىاور اسے راہ دکھائی
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ کیا 103 اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔ 104
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 103
یعنی شیطان کی طرح راندۂ درگاہ نہ کردیا، طاعت کی کوشش میں نا کام ہو کر جہاں وہ گر گئے تھے وہیں انہیں پڑا نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اٹھا کر پھر اپنے پاس بلا لیا اور اپنی خدمت کے لیے چن لیا۔ ایک سلوک وہ ہے جو بالارادہ بغاوت کرنے والے اور اکڑ اور ہیکڑی دکھانے والے نوکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کا مستحق شیطان تھا اور ہر وہ بندہ ہے جو ڈٹ کر اپنے رب کی نافرمانی کرے اور خم ٹھونک کر اس کے سامنے کھڑا ہوجائے۔ دوسرا سلوک وہ ہے جو اس وفادار بندے کے ساتھ کیا جاتا ہے جو محض " بھول " اور فقدان عزم " کی وجہ سے قصور کر گزرا ہو، اور پھر ہوش آتے ہی اپنے کیے پر شرمندہ ہوجائے۔ یہ سلوک حضرت آدم و حوا سے کیا گیا، کیونکہ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ پکار اٹھے تھے کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنُ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ، " اے ہمارے پروردگار، ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اور اگر تو ہم سے در گزر نہ فرمائے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم بر باد ہوجائیں گے۔ " (اعراف۔ آیت۔ 23)۔
سورة طٰهٰ 104
یعنی صرف معاف ہی نہ کیا، بلکہ آئندہ کے لیے راہ راست بھی بتائی اور اس پر چلنے کا طریقہ بھی سکھایا۔