تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 130
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى﴿130﴾
- فَاصْبِرْپس صبر کریں
- عَلٰيپر
- مَا يَقُوْلُوْنَجو وہ کہتے ہیں
- وَسَبِّحْاور تسبیح کریں
- بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
- رَبِّكَاپنا رب
- قَبْلَپہلے
- طُلُوْعِ الشَّمْسِطلوعِ آفتاب
- وَقَبْلَاور پہلے
- غُرُوْبِهَااس کے غروب
- وَمِنْاور کچھ
- اٰنَآئِ الَّيْلِرات کی گھڑیاں
- فَسَبِّحْپس تسبیح کریں
- وَاَطْرَافَاور کنارے
- النَّهَارِدن
- لَعَلَّكَتاکہ تم
- تَرْضٰىخوش ہوجاؤ
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے محمدؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنےربّ کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، 111 شاید کہ تم راضی ہو جاوٴ۔ 112
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 111
یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ابھی ہلاک نہیں کرنا چاہتا، اور ان کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر کرچکا ہے، اس لیے اس کی دی ہوئی اس مہلت کے دوران میں یہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کریں اس کو تمہیں برداشت کرنا ہوگا اور صبر کے ساتھ ان کی تمام تلخ و ترش باتیں سنتے ہوئے اپنا فریضۂ تبلیغ و تذکیر انجام دینا پڑے گا۔ اس تحمل و برداشت اور اس صبر کی طاقت تمہیں نماز سے ملے گی جس کو تمہیں ان اوقات میں پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
" رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح " کرنے سے مراد نماز ہے، جیسا کہ آگے چل کر خود فرما دیا وَأمُرْ اَھْلَکَ بَالصَّلوٰۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا، " اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ "
نماز کے اوقات کی طرف یہاں بھی صاف اشارہ کردیا گیا ہے۔ سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز۔ سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز۔ اور رات کے اوقات میں عشا اور تہجد کی نماز۔ رہے دن کے کنارے، تو وہ تین ہی ہو سکتے ہیں۔ ایک کنارہ صبح ہے، دوسرا کنارہ زوال آفتاب، اور تیسرا کنارہ شام۔ لہٰذا دن کے کناروں سے مراد فجر، ظہر اور مغرب کی نماز ہی ہو سکتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم۔ ہود، حاشیہ 113۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 91 تا 97، جلد سوم، الروم حاشیہ 24۔ جلد چہارم، المومن۔ حاشیہ 74۔
سورة طٰهٰ 112
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور غالباً دونوں ہی مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنی موجودہ حالت پر راضی ہوجاؤ جس میں اپنے مشن کی خاطر تمہیں طرح طرح کی ناگوار باتیں سہنی پڑ رہی ہیں، اور اللہ کے اس فیصلے پر راضی ہوجاؤ کہ تم پر ناحق ظلم اور زیادتیاں کرنے والوں کو بھی سزا نہیں دی جائے گی، وہ داعی حق کو ستاتے بھی رہیں گے اور زمین میں دندناتے بھی پھریں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم ذرا یہ کام کر کے تو دیکھو، اس کا نتیجہ وہ کچھ سامنے آئے گا جس سے تمہارا دل خوش ہوجائے گا۔ یہ دوسرا مطلب قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ادا کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں نماز کا حکم دینے کے بعد فرمایا عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْموْداً ، " توقع ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر پہنچا دے گا " آیت 79۔ اور سورة ضحٰی میں فرمایا وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰ ہ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی، " تمہارے لیے بعد کا دور یقیناً پہلے دور سے بہتر ہے، اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا کچھ دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے "۔