تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 131
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى﴿131﴾
- وَاور
- لَا تَمُدَّنَّنہ پھیلانا
- عَيْنَيْكَاپنی آنکھیں
- اِلٰىطرف
- مَا مَتَّعْنَاجو ہم نے برتنے کو دیا
- بِهٖٓاس سے
- اَزْوَاجًاجوڑے
- مِّنْهُمْان سے۔ کے
- زَهْرَةَآرائش
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- لِنَفْتِنَهُمْتاکہ ہم انہیں آزمائیں
- فِيْهِاس میں
- وَرِزْقُاور عطیہ
- رَبِّكَتیرا رب
- خَيْرٌبہتر
- وَّاَبْقٰياور تادیر رہنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال 113 ہی بہتر اور پائندہ تر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 113
رزق کا ترجمہ ہم نے " رزق حلال " کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو " رزق رب " سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہر چمک دمک پیدا کرلیتے ہیں، اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھو۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق تم اپنی محنت سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے۔