تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 18
قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى﴿18﴾
- قَالَاس نے کہا
- هِىَیہ
- عَصَايَمیرا عصا
- اَتَوَكَّؤُامیں ٹیک لگاتا ہوں
- عَلَيْهَااس پر
- وَاَهُشُّاور میں پتے جھاڑتا ہوں
- بِهَااس سے
- عَلٰيپر
- غَنَمِيْاپنی بکریاں
- وَلِيَاور میرے لیے
- فِيْهَااس میں
- مَاٰرِبُضرورتیں (فائدے)
- اُخْرٰىاور بھی
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“ 12
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 12
اگرچہ جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ حضور، یہ لاٹھی ہے، مگر حضرت موسیٰ نے اس سوال کا جو لمبا جواب دیا وہ ان کی اس وقت کی قلبی کیفیت کا ایک دلچسپ نقشہ پیش کرتا ہے۔ قاعدے کی بات ہے کہ جب آدمی کو کسی بہت بڑی شخصیت سے بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ اپنی بات کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ دیر تک اس کے ساتھ ہم کلامی کا شرف حاصل رہے۔