تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 57
Tafseerقَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى﴿57﴾
- قَالَاس نے کہا
- اَجِئْتَنَاکیا تو آیا ہے ہمارے پاس
- لِتُخْرِجَنَاکہ تو نکالدے ہمیں
- مِنْ اَرْضِنَاہماری زمین سے
- بِسِحْرِكَاپنے جادو کے ذریعہ
- يٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہنے لگا”اے موسیٰؑ ، کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟ 30
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 30
جادو سے مراد عصا اور ید بیضا کا معجزہ ہے جو سورة اعراف اور سورة شعراء کی تفصیلات کے موجب حضرت موسیٰ نے پہلی ہی ملاقات کے وقت بھرے دربار میں پیش کیا تھا۔ اس معجزے کو دیکھ کر فرعون پر جو بد حواسی طاری ہوئی اس کا اندازہ اس کے اسی فقرے سے کیا جاسکتا ہے کہ ’ تو اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے "۔ دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے کبھی یہ واقعہ پیش آیا تھا اور نہ بعد میں کبھی پیش آیا کہ کسی جادوگر نے اپنے جادو کے زور سے کوئی ملک فتح کرلیا ہو۔ فرعون کے اپنے ملک میں سینکڑوں ہزاروں جادوگر موجود تھے جو تماشے دکھا دکھا کر انعام کے لیے ہاتھ پھیلاتے پھرتے تھے۔ اس لیے فرعون کا ایک طرف یہ کہنا کہ تو جادوگر ہے، اور دوسری طرف یہ خطرہ ظاہر کرنا کہ تو میری سلطنت چھین لینا چاہتا ہے، کھلی ہوئی بد حواسی کی علامت ہے، دراصل وہ حضرت موسیٰ کی معقول و مدلل تقریر، اور پھر ان کے معجزے کو دیکھ کر یہ سمجھ گیا تھا کہ نہ صرف اس کے اہل دربار، بلکہ اس کی رعایا کے بھی عوام و خواص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ اس لیے اس نے جھوٹ اور فریب اور تعصبات کی انگیخت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کردی۔ اس نے کہا یہ معجزہ نہیں جادو ہے اور ہماری سلطنت کا ہر جادوگر اسی طرح لاٹھی کو سانپ بنا کر دکھا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو، ذرا دیکھو، یہ تمہارے باپ دادا کو گمراہ اور جہنمی ٹھہراتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو، ہوشیار ہوجاؤ، یہ پیغمبر ویغمبر کچھ نہیں ہے، اقتدار کا بھوکا ہے، چاہتا ہے کہ یوسف کے زمانے کی طرح پھر بنی اسرائیل یہاں حکمراں ہوجائیں اور قبطی قوم سے سلطنت چھین لی جائے۔ ان ہتھکنڈوں سے وہ دعوت حق کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔ (مزید تشریحات کے لیے تفہیم القرآن، جلد دوم کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں، الاعراف حواشی 87، 88، 89۔ یونس، حاشیہ 75۔ اس مقام پر یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ہر زمانے میں برسر اقتدار لوگوں نے داعیان حق کو یہی الزام دیا ہے کہ وہ دراصل اقتدار کے بھوکے ہیں اور ساری باتیں اسی مقصد کے لیے کر رہے ہیں۔ اس کی مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیت 110، 123۔ یونس، آیت 78۔ المومنون، آیت 24۔