Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 71

Tafseer
  1. قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى﴿71﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. اٰمَنْتُمْتم ایمان لائے
    3. لَهٗاس پر
    4. قَبْلَپہلے
    5. اَنْ اٰذَنَکہ میں اجازت دوں
    6. لَكُمْتمہیں
    7. اِنَّهٗبیشک وہ
    8. لَكَبِيْرُكُمُتمہارا بڑا
    9. الَّذِيْوہ جس نے
    10. عَلَّمَكُمُتمہیں سکھایا
    11. السِّحْرَجادو
    12. فَلَاُقَطِّعَنَّپس میں ضرور کاٹوں گا
    13. اَيْدِيَكُمْتمہارے ہاتھ
    14. وَاَرْجُلَكُمْاور تمہارے پاؤں
    15. مِّنْ خِلَافٍدوسری طرف سے
    16. وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْاور میں تمہیں ضرور سولی دوں گا
    17. فِيْمیں۔ پر
    18. جُذُوْعِ النَّخْلِکھجور کے تنے
    19. وَلَتَعْلَمُنَّاور تم خوب جان لوگے
    20. اَيُّنَآہم میں کون
    21. اَشَدُّزیادہ سخت
    22. عَذَابًاعذاب میں
    23. وَّاَبْقٰياور تا دیر رہنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
فرعون نے کہا”تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی تھی۔ 45 اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں 46 اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں۔ 47 پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے 48“ (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 45 سورة اعراف میں الفاظ یہ ہیں اِنَّ ھٰذَا الَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْھَا اَھْلَھَا، " یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے دار السلطنت میں ملی بھگت کر کے کی ہے تاکہ سلطنت سے اس کے مالکوں کو بےدخل کردو "۔ یہاں اس قول کی مزید تفصیل یہ دی گئی ہے کہ تمہارے درمیان صرف ملی بھگت ہی نہیں ہے، بلکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ موسیٰ تمہارا سردار اور گرو ہے، تم نے معجزے سے شکست نہیں کھائی ہے بلکہ اپنے استاد سے جادو میں شکست کھائی ہے، اور تم آپس میں یہ طے کر کے آئے ہو کہ اپنے استاد کا غلبہ ثابت کر کے اور اسے اس کی پیغمبری کا ثبوت بنا کر یہاں سیاسی انقلاب بر پا کردو۔ سورة طٰهٰ 46 یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں۔ سورة طٰهٰ 47 صلیب یا سولی دینے کا قدیم طریقہ یہ تھا کہ ایک لمبا شہتیر سا لیکر زمین میں گاڑ دیتے تھے، یا کسی پرانے درخت کا تنا اس غرض کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اس کے اوپر کے سرے پر ایک تختہ آڑا کر کے باندھ دیتے تھے۔ پھر مجرم کو اوپر چڑھا کر اور اس کے دونوں ہاتھ پھیلا کر آڑے تختے کے ساتھ کیلیں ٹھونک دیتے تھے۔ اس طرح مجرم تختے کے بل لٹکا رہ جاتا تھا اور گھنٹوں سسک سسک کر جان دے دیتا تھا۔ صلیب دیے ہوئے یہ مجرم ایک مدت تک یونہی لٹکے رہنے دیے جاتے تھے تاکہ لوگ انہیں دیکھ دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ سورة طٰهٰ 48 یہ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون کا آخری داؤ تھا، وہ چاہتا تھا کہ جادوگروں کو انتہائی خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرالے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ ؑ کی ملی بھگت تھی اور وہ ان سے ملکر سلطنت کے خلاف سازش کرچکے تھے۔ مگر جادوگروں کے عزم و استقامت نے اس کا یہ داؤ بھی الٹ دیا، انہوں نے اتنی ہولناک سزا برداشت کرنے کے لئے تیار ہو کر دنیا بھر کو یہ یقین دلا دیا کہ سازش کا الزام محض بگڑی ہوئی بات بنانے کے لئے ایک بےشرمانہ سیاسی چال کے طور پر گھرٓ گیا ہے، اور اصل حقیقت یہی ہے کہ وہ سچے دل سے موسیٰ ؑ کی نبوت پر ایمان لے آئے ہیں۔