Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 103

  1. لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿103﴾

    1. لَا يَحْزُنُهُمُغمگین نہ کرے گی انہیں
    2. الْفَزَعُگھبراہٹ
    3. الْاَكْبَرُبڑی
    4. وَتَتَلَقّٰىهُمُاور لینے آئیں گے انہیں
    5. الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
    6. ھٰذَایہ ہے
    7. يَوْمُكُمُتمہارا دن
    8. الَّذِيْوہ جو
    9. كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَتم تھے وعدہ کیے گئے (وعدہ کیا گیا تھا
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا، 98 اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ ”یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 98 یعنی روز محشر اور خدا کے حضور پیشی کا وقت، جو عام لوگوں کے لیے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی کا وقت ہوگا، اس وقت نیک لوگوں پر ایک اطمینان کی کیفیت طاری رہے گی۔ اس لیے کہ سب کچھ ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہوگا۔ ایمان و عمل صالح کی جو پونجی لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے وہ اس وقت خدا کے فضل سے ان کی ڈھارس بندھائے گی اور خوف و حزن کے بجائے ان کے دلوں میں یہ امید پیدا کرے گی کہ عنقریب وہ اپنی سعی کے نتائج خیر سے ہم کنار ہونے والے ہیں۔