تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 16
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ﴿16﴾
- وَمَا خَلَقْنَااور ہم نے نہیں پیدا کیا
- السَّمَآءَآسمان
- وَالْاَرْضَاور زمین
- وَمَااور جو
- بَيْنَهُمَاان دونوں کے درمیان
- لٰعِبِيْنَکھیلتے ہوئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ 15
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 15
یہ تبصرہ ہے ان کے اس پورے نظریۂ حیات پر جس کی وجہ سے وہ نبی ﷺ کی دعوت پر توجہ نہ کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ انسان دنیا میں بس یونہی آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو کچھ چاہے کرے اور جس طرح چاہے جیے، کوئی باز پرس اس سے نہیں ہونی ہے۔ کسی کو اسے حساب نہیں دینا ہے۔ چند روز کی بھلی بری زندگی گزار کر سب کو بس یونہی فنا ہوجانا ہے۔ کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں بھلائی کی جزا اور برائی کی سزا ہو۔ یہ خیال درحقیقت اس بات کا ہم معنی تھا کہ کائنات کا یہ سارا نظام محض کسی کھلنڈڑے کا کھیل ہے جس کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں ہے۔ اور یہ خیال دعوت پیغمبر سے ان کی بےاعتنائی کا اصل سبب تھا۔