تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 17
لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ﴿17﴾
- لَوْ اَرَدْنَآاگر ہم چاہتے
- اَنْکہ
- نَّتَّخِذَہم بنائیں
- لَهْوًاکوئی کھلونا
- لَّاتَّخَذْنٰهُتو ہم اس کو بنا لیتے
- مِنْ لَّدُنَّآاپنے پاس سے
- اِنْ كُنَّااگر ہم ہوتے
- فٰعِلِيْنَکرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے۔ 16
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 16
یعنی ہمیں کھیلنا ہی ہوتا تو کھلونے بنا کر ہم خود ہی کھیل لیتے۔ اس صورت میں یہ ظلم تو ہرگز نہ کیا جاتا کہ خواہ مخواہ ایک ذی حس، ذی شعور، ذمہ دار مخلوق کو پیدا کر ڈالا جاتا، اس کے درمیان حق و باطل کی یہ کشمکش اور کھینچا تانیاں کرائی جاتیں، اور محض اپنے لطف و تفریح کے لیے ہم دوسروں کو بلا وجہ تکلیفوں میں ڈالتے۔ تمہارے خدا نے یہ دنیا کچھ رومی اکھاڑے (Coliseu) کے طور پر نہیں بنائی ہے کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور ان کی بوٹیاں نچوا کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے۔