Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 46

  1. اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ﴿46﴾

    1. اَفَلَمْ يَسِيْرُوْاپس کیا وہ چلتے پھرتے نہیں
    2. فِي الْاَرْضِزمین میں
    3. فَتَكُوْنَجو ہوجاتے
    4. لَهُمْان کے
    5. قُلُوْبٌدل
    6. يَّعْقِلُوْنَوہ سمجھنے لگتے
    7. بِهَآان سے
    8. اَوْیا
    9. اٰذَانٌکان (جمع)
    10. يَّسْمَعُوْنَسننے لگتے
    11. بِهَاان سے
    12. فَاِنَّهَاکیونکہ درحقیقت
    13. لَا تَعْمَىاندھی نہیں ہوتیں
    14. الْاَبْصَارُآنکھیں
    15. وَلٰكِنْاور لیکن (بلکہ)
    16. تَعْمَىاندھے ہوجاتے ہیں
    17. الْقُلُوْبُدل (جمع)
    18. الَّتِيْوہ جو
    19. فِي الصُّدُوْرِسینوں میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ 91
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 91 خیال رہے کہ قرآن سائنس کی زبان میں نہیں بلکہ ادب کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ یہاں خواہ مخواہ ذہن اس سوال میں الجھ جائے کہ سینے والا دل کب سوچا کرتا ہے۔ ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ حتی کہ کسی چیز کے " یاد ہونے " کو بھی یوں کہتے ہیں " وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے "۔