Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 115

  1. اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴿115﴾

    1. اَفَحَسِبْتُمْکیا تم خیال کرتے ہو
    2. اَنَّمَاکہ
    3. خَلَقْنٰكُمْہم نے تمہیں پیدا کیا
    4. عَبَثًاعبث (بیکار)
    5. وَّاَنَّكُمْاور یہ کہ تم
    6. اِلَيْنَاہماری طرف
    7. لَا تُرْجَعُوْنَنہیں لوٹائے جاؤگے
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضُول ہی پیدا کیا ہے 102 اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِنُوْن 102 اصل میں لفظ عَبَثاً کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا ایک مطلب تو ہے " کھیل کے طور پر "۔ اور دوسرا مطلب ہے " کھیل کے لیے " پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے۔ " کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بطور تفریح بنادیا ہے، تمہاری تخلیق کی کوئی غرض وغایت نہیں ہے، محض ایک بےمقصد مخلوق بنا کر پھیلا دی گئی ہے۔ " دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا " کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ تم بس کھیل کود اور تفریح اور ایسی لاحاصل مصروفیتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو جن کا کبھی کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے "۔